قرآن سے ہے۔ جو انجیل کی آیتوں کے اوپرآپ نے اپنا حاشیہ چڑھایاہے۔ سو صحیح نہیں ۔ مَیں نے عرض کر دیا ہے کہ بدی کے واسطے خدا کی طرف سے پر مشن ہوتا ہے یعنی اجازت اور پرولجوں کے واسطے وہاں ہی تک حد ہے کہ جس میں دوزخ اور بہشت کا کچھ ذکر نہیں۔ دُنیا کے اندر کمی اور زیادتی وسعت کا ذکر ہے۔ پھر ان کو آپ ممثلہ قرآن کا کیونکر کہتے ہیں۔ مَیں تو کہتا ہوں کہ قرآن میں جبراور قدر ہر دو ہیں لیکن یہ امر ہر دو باہم متفق نہیں ہو سکتے ۔ بلکہ ایک دوسرے کے نقیض ہیں جیسا کہ یہ کہنا کہ اختیار ہے بھی اور نہیں بھی صاف نقیض ہے۔
(۴) خداوند مسیح کی آزمائش میں شیطان نے جو انسانیت کاامتحان کیا ہے آپ کا مطلب کیا ہے کچھ ظاہر نہیں۔ اِس میں جبر وقدرکا علاقہ کیا ہے۔
آپ کی مثال آفتاب کی نہ معلوم کیونکر بر محل ہے جب آپ کہتے ہیں کہ سبب ثانی کے افعال بھی خداتعالیٰ اپنی طرف جو سبب اولیٰ ہے منسوب کرتا ہے نہ معلوم کیوں کرتاہے کیا ضرورت اس کی تھی سبب ثانی کے افعال ایسی صورت میں سبب اُولیٰ سے منسوب ہو سکتے ہیں کہ جب کچھ دخل سبب اُولیٰ کا بھی اس میں ہو۔
سبب اُولیٰ نے ایک شخص کو فعل مختار بنایا فعل مختاری درخود جب تک کچھ اس سے ظہور نہ ہووے قابل مواخذہ کے نہیں لہٰذا وہ درحقیقت بری بھی نہیں بلکہ بھلی ہے اور سبب اولیٰ اگر اس میں دخل دیوے تو فعل مختاری کا نقیض ہوجاوے۔ یہ خود اس کے منصوبہ فعل مختار بنانے سے بعید ہے۔ اس کے معنے ہم نے کردیئے ہیں کہ فرعون کا دل کیونکر سخت کر دیا ہم نے اِس کے معنے پہلے عرض کر دیئے یعنی یہ کہ اس کو بدی کرنے سے روکا نہیں اور اپنے فضل کا ہاتھ اُس سے اٹھا لیا اسی طرح سے اس کا دل سخت ہو گیا۔ پھر اس میں خداتعالیٰ نے کچھ نہیں کیا مگر اجازت روکنے کی نہیں دی اس کو ہمارے ہاں پر مشن کہتے ہیں اوریہ کلام مجاز ہے کہ ان کو آنکھیں دیکھنے کی نہیں دیں یا کان سننے کے نہیں دیئے جس سے یہ مراد ہوئی ؔ کہ آنکھ اورکان رکھتے ہوئے جب وہ نہیں دیکھتے اورنہیں سنتے کہ خداتعالیٰ نے ان کو روکا نہیں ایسا ہی کلام مجاز یہ ہے کہ جس طرح باپ اپنے لڑکے سے ناراض ہو کر کہتا ہے کہ تو مر جائے