چونکہ خداتعالیٰ علت العلل ہے بوجہ اپنے علت العلل ہونے کے ان دونوں فعلوں کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے لیکن اپنے پاک کلام میں اس نے بار ہا تصریح سے فرمادیا ہے کہ جو ضلالت کے اثر کسی کے دل میں پڑتے ہیں وہ اسی کی بد اعمالی کا نتیجہ ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر کوئی ظلم نہیں کرتا جیساکہ فرماتا ہے ۱ (س۲۸ر۹)پس جبکہ وہ کج ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو کج کر دیا۔ پھر دوسرے مقام میں فرماتا ہے ۔ ۲ ان کے دلوں میں مرض تھی خداتعالیٰ نے اس مرض کو زیادہ کیا یعنی امتحان میں ڈال کر ا س کی حقیقت ظاہر کردی پھر فرماتا ہے۔33۳ یعنی خداتعالیٰ نے بباعث ان کی بے ایمانیوں کے ان کے دلوں پر مہریں لگا دیں۔ لیکن یہ جبر کا اعتراض اگر ہو سکتا ہے تو آپکی کتب مقدسہ پر ہو گا۔ دیکھو خروج ۴۲۱ خدا نے موسیٰ کو کہا۔ مَیں فرعون کا دل سخت کروں گا اور جب سخت ہوا تو اس کا نتیجہؔ جہنم ہے یا کچھ اورہے۔ دیکھو خروج ۳۷ ا مثال باب ۴۱۶ پھر خروج ۳۱۰ استثنا۴۲۹ خدا نے تم کو وہ دل جو سمجھے اوروہ آنکھیں جودیکھیں اور وہ کان جو سنیں آج تک نہ دیئے۔ اب دیکھئے کیسے جبر کی صاف مثال ہے۔ پھر دیکھو زبور۱۴۸ اس نے ایک تقدیر مقدر کی جو ٹل نہیں سکتی رومیان۹۱۸ کاریگری کا کاریگر پر اعتراض نہیں کرسکتے۔ اب ان تمام آیات سے آپ کا اعتراض الٹ کر آپ ہی پر پڑا اور پھر بعد اس کے آپ نے جہاد پر اعتراض کر دیا ہے مگر یہ اعتراض طریق مناظرہ کے بالکل مخالف ہے اور آپ کی شرائط میں بھی یہی درج تھا کہ نمبر وار سوالات ہونگے بجز اسکے کیا مطلب تھا کہ پہلے سوال کا جواب ہو جائے تو پھر دوسرا پیش ہو اور خبط بحث نہ ہو۔ اور آپ کے پہلے سوال کا جواب جو آپ نے عدل پر کیا کچھ نتیجہ رہ گیا تھا وہ یہ ہے کہ آپ کے اِس خود ساختہ قانون کو حضرت مسیحؑ توڑتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے بیان کے مطابق نجات کا مدار وعدوں پر رکھتے ہیں اور احکام الٰہی جن کی جزا وعدہ کے طورپر بیان کی گئی پیش کرتے ہیں جیساکہ وہ فرماتے ہیں کہ مبارک وے جو غمگین ہیں کیونکہ وہ تسلی پائیں گے