لیکن انجیل متی سے تو اس کے برخلاف ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ انجیل متی سے یہ بات پایۂ ثبوت پر پہنچتی ہے کہ شیطان حضرت مسیح کو آزمائش کے لئے لے گیا۔ تو یہ ایک قسم کی حکومت شیطان کی ٹھہری کہ ایک مقدس نبی پر اس نے اس قدر جبر کیا کہ وہ کئی جگہ اس کو لئے پھرا۔ یہانتک کہ بے ادبی کی راہ سے اسے یہ بھی کہا کہ تو مجھے سجدہ کر۔ اور ایک بڑے اونچےؔ پہاڑ پر لے گیا اوردنیا کی ساری بادشاہتیں اوران کی شان و شوکت اسے دکھلائیں ۔ دیکھو متی ۴ اَور پھر غور کر کے دیکھو کہ اس جگہ پر شیطان کیا بلکہ خدا ئی جلوہ دکھلایا گیا ہے کہ اول وہ بھی اپنی مرضی سے مسیح کی خلاف مرضی ایک پہاڑ پر اسکو لے گیا اور دنیا کی بادشاہتیں دکھا دینا خداتعالیٰ کی طرح اُس کی قوت میں ٹھہرا۔اور بعد اس کے واضح ہو کہ یہ بات جو آپ کے خیال میں جم گئی ہے کہ گویا قرآن کریم نے خواہ نخواہ بعض لوگوں کو جہنم کے لئے پیدا کیا ہے یا خواہ نخواہ دلوں پر مہریں لگا دیتا ہے یہ اس بات پر دلیل ہے کہ آپ لوگ کبھی انصاف کی پاک نظر کے ساتھ قرآن کریم کو نہیں دیکھتے۔دیکھو اللہ جلّ شانہ‘ کیا فرماتاہے۔ ۱ س۲۳ر۱۴ یعنی شیطان کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ مَیں جہنم کو تجھ سے اور اُن لوگوں سے جو تیری پیروی کریں بھروں گا۔ دیکھئیے اس آیت سے صاف طور پر کھل گیا اللہ تعالیٰ کا یہ منشانہیں ہے کہ خواہ نخواہ لوگوں کو جبر کے طورپر جہنم میں ڈالے بلکہ جو لوگ اپنی بداعمالیوں سے جہنم کے لائق ٹھہریں ان کو جہنم میں گرایا جاوے گا۔ اور پھر فرماتا ہے ۲ یعنی بہتوں کو اس کلام سے گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو یہ ہدایت دیتا ہے۔ مگر گمراہ ان کو کرتا ہے جو گمراہ ہونے کے کام کرتے ہیں ۔ اور فاسقانہ چالیں چلتے ہیں یعنی انسان اپنے ہی افعال کا نتیجہ خداتعالیٰ سے پا لیتا ہے جیسے کہ ایک شخص آفتاب کے سامنے کی کھڑکی جب کھول دیتا ہے تو ایک قدرتی اور فطرتی امر ہے کہ آفتاب کی روشنی اوراس کی کرنیں اس کے منہ پر پڑتی ہیں۔ لیکن جب وہ اس کھڑکی کو بند کر دیتا ہے تو اپنے ہی فعل سے اپنے لئے اندھیرا پیدا کرلیتا ہے