بات یہ ہے کہ امر کے معنے حکم اور حکومت کے ہیں اور یہ بعض ان لوگوں کا خیال تھا جنہوںؔ نے کہا کہ کاش اگر حکومت میں ہمارا دخل ہوتا توہم ایسی تدابیر کرتے جس سے یہ تکلیف جو جنگ احد میں ہوئی ہے پیش نہ آتی۔ اِس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۱ یعنی تمام امر خداتعالیٰ کے اختیار میں ہیں تمہیں اپنے رسول کریم کا تابع رہنا چاہیئے۔ اَب دیکھنا چاہیئے کہ اِس آیت کو قدر سے کیا تعلق ہے۔ سوال تو صرف بعض آدمیوں کا اِتنا تھا کہ اگر ہماری صلاح اور مشورہ لیاجاوے تو ہم اس کے مخالف صلاح دیں تو اللہ تعالیٰ نے اُن کو منع فرمایا کہ اِس امر کی اجتہاد پر بنا نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے پھر بعد اس کے واضح رہے کہ تقدیر کے معنے صرف اندازہ کرنا ہے جیسے کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتاہے ۲س۱۸ر۱۶ یعنی ہر ایک چیز کو پیدا کیا تو پھر اس کے لئے ایک مقرر اندازہ ٹھہرا دیا اِس سے کہاں ثابت ہوتا ہے کہ انسان اپنے اختیارات سے روکا گیا ہے بلکہ وہ اختیارات بھی اسی اندازہ میں آگئے جب خداتعالیٰ نے انسانی فطرت اور انسانی خوئے کا اندازہ کیا تو اس کا نام تقدیر رکھا۔ اور اسی میںیہ مقرر کیا کہ فلاں حد تک انسان اپنے اختیار ات برت سکتا ہے یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ تقدیرکے لفظ کو ایسے طورپر سمجھا جائے کہ گویا انسان اپنے خدا داد قویٰ سے محروم رہنے کے لئے مجبور کیاجاتاہے۔ اِس جگہ تو ایک گھڑی کی مثال ٹھیک آتی ہے کہ گھڑی کا بنانے والا جس حد تک اس کا دَور مقرر کرتا ہے اس حد سے وہ زیادہ چل نہیں سکتی۔ یہی انسان کی مثال ہے کہ جو قویٰ اس کو دی گئی ہیں اُن سے زیادہ وہ کچھ کرنہیں سکتا اورجو عمر دی گئی ہے اس سے زیادہ جی نہیں سکتا۔ اوریہ سوال کہ خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں جبر کے طور پر بعضوں کو جہنمی ٹھہرادیا ہے اور خواہ نخواہ شیطان کا تسلّط ان پر لازمی طورپر رکھا گیا ہے یہ ایک شرمناک غلطی ہے اللہ جلّ شانہ‘ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔۳ کہ اے شیطان میرے بندوں پر تیراکچھ بھی تسلط نہیں دیکھئے کس طرح پر اللہ تعالےٰ انسان کی آزادی ظاہر کرتاہے۔ منصف کے لئے اگر کچھ دل میں انصاف رکھتا ہو تو یہی آیت کافی ہے