عدل کامفہوم ضرور اِس بات کو چاہتا ہے کہ اوّل جانبین میں حقوق قرار دیئے جائیں۔ لیکن مخلوق کا خداتعالیٰ پر جس نے عدم محض سے اُس کو پَیدا کیا کوئی حق نہیں ورنہ ایک کُتّا مثلًا کہہ سکتا ہے کہ مجھ کو بیل کیوں نہیں بنایا اور بیل کہہ سکتا ہے کہ مجھ کو انسان کیوں نہیں بنایا اور چونکہ یہ جانور اِسی دُنیا میں جہنّم کا نمونہ بُھگت رہے ہیں اگر عدل خداتعالیٰ پر ایک لازمی صفت تھوپ دی جائے تو ایسا سخت اعتراض ہوگا کہ جس کا جواب آپ سے کسی طور پر نہ بن پڑے گا۔ پھر آپ نے جبر قدر کا اعتراض پیش کیا ہے اور فرماتے ہیں کہ قرآن سے جبر ثابت ہوتا ہے۔ اِس کے جواب میں واضح ہو کہ شاید آپ کی نظر سے یہ آیات نہیں گذریں جو انسان کے کسب و اختیار پر صریح دلالت کرتی ہیں اور یہ ہیں:۔
۱ (س۲۷ر۳)کہ انسان کو وہی ملتا ہے جو سعی کرتا ہے جو اُس نے کوشش کی ہو یعنی عمل کرنا اجر پانے کے لئے ضروری ہے پھر فرماتا ہے۲ (س۲۲۔ر۵) یعنی خدا اگر لوگوں کے اعمال پر جو اپنے اختیار سے کرتے ہیں اُن کو پکڑتا تو کوئی زمین پر چلنے والا نہ چھوڑتا۔ اور پھر فرماتا ہے۳ (س۳ر۸) اُس کے لئے جو اُس نے کام اچھے کئے اور اُس پر جو اُس نے بُرے کا م کئے۔ پھر فرماتا ہے ۴ جو شخص اچھا کام کرے سو اسکے لئے اورجو بُرا کرے وہ اُس کے لئے۔ پھر فرماتاہے ۵ (س۵ر۶) یعنی کس طرح جس وقت پہنچے اُن کو مصیبت بوجہ اُن اعمال کے جو اُن کے ہاتھ کر چکے ہیں۔ اَب دیکھئے ان تمام آیات سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ انسان اپنے کاموں میں اختیار بھی رکھتا ہے اور اِس جگہ ڈپٹی صاحب نے جو یہ آیت پیش کی ہے۔۶ اور اِس سے ان کا مدعا یہ ہے کہ اس سے جبر ثابت ہوتا ہے یہ ان کی غلط فہمی ہے۔دراصل