یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ اِس بارہ میں جو کچھ ہم نے کہنا تھا وہ کہہ دیا۔ بعد اِس کے کچھ نہیں کہیں گے مگر افسوس کہ اُنہوں نے یہ طرز حق پرستوں کی اختیار نہیں کی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کودُوسروں کی تحریک اور نکتہ چینی سے بعد میں فکر پڑی کہ ہمارے اس قول سے مسیح کا انسان ہونا۔ اورمظہراللہ سے تیس برس تک خالی ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اِس مصیبت پیش آمدہ کی وجہ سے آج اُنہوں نے یہ تاویل رکیک پیش کی مگر درحقیقت یہ تاویل نہیں بلکہ صاف صاف اور کُھلے کُھلے لفظوں میں انکار ہے پھر بعد اِس کے ڈپٹی صاحب موصوف فرماتے ہیں کہ میرے سوال کا جواب نہیں آیا یعنی تقاضائے عدل کیونکر پورا ہو ۔ مَیں نے کل کے بیان میں صاف لکھا دیا تھا کہ آپ کا یہ دعویٰ کہ رحم اور عدل دونوں دوش بدوش اور خداتعالیٰ کیلئے ایک ہی وقت میں لازم پڑے ہوئے ہیں یہ غلط خیال ہے پھر مکرّر کچھ لکھتا ہوں کہ رحم قانون قدرت کی شہادت سے اوّل مرتبہ پر ہے اور دائمی اور عام معلوم ہوتا ہے لیکن عدل کی حقیقت قانون الٰہی کے نازل ہونے کے بعد اور وعدہ کے بعد متحقق ہوتی ہے یعنی وعدہ کے پہلے عدل کچھ بھی چیز نہیں اس وقت تک مالکیت کام کرتی ہے۔ اگر وعدہ سے پہلے عدل کچھ چیز ہے تو ڈپٹی صاحب ہمارے کل کے سوال کا ذرہ متنبّہ ہو کرجواب دیویں کہ ہزاروں انسانوں کے بچّے اور پرند اور چرند اورکیڑے مکوڑے بے وجہ ہلاک کئے جاتے ہیں وہ باوجود عدل کی دائمی صفت کے کیوں کئے جاتے ہیں اور بموجب آپ کے قاعدہ کے کیوں عدل ان کے متعلق نہیں کیاجاتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ خداتعالیٰ پر کسی چیز کا حق نہیں ہے انسان اپنے حق سے بہشت کو بھی نہیں پا سکتا صرف وعدہ سے یہ مرتبہ شروعؔ ہوتا ہے۔ جب کتاب الٰہی نازل ہو چکتی ہے اور اس میں وعدہ بھی ہوتے ہیں۔ اور وعید بھی ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ وعید کی رعایت سے ہر ایک نیک و بد سے معاملہ کرتا ہے ۔ اورجبکہ عدل فی ذاتہٖ کچھ بھی چیز نہیں بلکہ وعدہ وعید پر تمام مدار ہے اورخداوندتعالیٰ کے مقابل پرکسی چیز کا کوئی بھی حق نہیں تو پھر عدل کیونکر رکھا جاوے