بیان حضرت مرزا صاحب
یکم جون ۱۸۹۳ ء
ڈپٹی صاحب اوّل یہ فرماتے ہیں کہ میں نے اِس بات کا اقبال نہیں کیا کہ اقنوم ثانی یعنی حضرت مسیح تیس برس تک مظہر اللہ ہونے سے خالی رہے اِس کے جواب میں صرف ڈپٹی صاحب موصوف کی عبارت مرقومہ ۳۱۔ مئی ۱۸۹۳ ء کو سامنے رکھ دینا کافی ہے اور وہ یہ ہے:۔
ششم۔ جناب جو پوچھتے ہیں کہ مظہر اللہ مسیح بعد نزول روح القدس کے ہوئے یا ما بعد اُسکے ۔ ہمارا اِس جگہ پر جواب قیاسی ہے کہ رُوح القدس کے نازل ہونے کے وقت ہوئے۔ اَب سوچنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ کیا اِس عبارت کے بجُز اِس کے کوئی اور بھی معنے ہو سکتے ہیں کہ حضرت مسیح رُوح القدس کے نازل ہونے سے پہلے جو کبوتر کی شکل میں اُن پر نازل ہوا مظہر اللہ نہیں تھے پیچھے سے مظہر اللہ بنے۔ پھر جب مظہر اللہ کی مطلق نفی بغیر کسی استثنا کے ڈپٹی صاحب موصوف نے کر دی تو کیا بجُز اِس کے کوئی اور بھی معنے ہو سکتے ہیں کہ حضرت مسیح کبوتر نازل ہونے سے پہلے صرف انسان تھے کیونکہ مظہر اللہ کالفظ کسی تقسیم اور تجزیہ کے قابل نہیں اور اُن کی عبارت سے ہرگز یہ نکلتاؔ نہیں کہ مخفی طور پر پہلے مظہر اللہ تھے اور پھر علانیہ طور پر ہو گئے وہ تو صاف فرما رہے ہیں کہ بعد روح القدس کے مظہر اللہ ہوئے اَب یہ دُوسرا بیان پہلے بیان کی تفصیل نہیں ہے بلکہ صریح اِسکے مخالف اور اس کا ضد پڑ ا ہو ا ہے اور اقرار کے بعد انکار کرنا انصاف پسندوں کا کام نہیں بلا شبہ وہ اقرار کر چکے ہیں کہ حضرت مسیح تیس برس تک مظہر اللہ ہونے سے بالکل بے بہرہ اور بے نصیب تھے کیونکہ ہمارا سوال تھاکہ رُوح القدس کے نازل ہونے سے پہلے مظہر اللہ تھے یا بعد اس کے ہوئے تو آپ نے قطعی طور پر بعد کو اختیار کیا اور صاف طور پر اقرار کر لیا کہ بعد میں مظہراللہ بنے۔ اَب اس میں زیادہ بحث کی ضرورت نہیں جب عام میں یہ سوال پھیلے گا او ر پبلک کے سامنے آئے گا تو خود لوگ سمجھ لیں گے کہ ڈپٹی صاحب نے یہ اقرار کے بعد انکار کیا ہے یا کوئی اور صُورت ہے اور اَب وہ