اور جو فصاحت بلاغت جدید مطلق ہووے تووہ محتاج تلقین کی ہوجاتی ہے اور آسانی کے برخلاف آسان نہیں رہتی۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ بروئے قرآن محمد صاحب اُمّی محض نہ تھے بلکہ قرآن میں یوں لِکھا ہے کہ جو اہل کتاب نہیں وہ اُمّی ہے اور فی الواقع علم عبرانی اوریونانی کا آنجناب کو حاصل نہیں معلوم ہوتا۔ نیز یہ بھی یاد رہے کہ لفظ کتاب کا باصطلاح قرآنی علی العموم بمعنے کتاب الہامی کے ہے کتاب دُنیاوی نہیں۔ چوتھاؔ ۔ جناب نے میرے کل کے ایک سوال کا جواب پورا نہیں دیا جس میں میرا استفسار تھا کہ مسیح کی پَیدائش معجزہ ہی تھی یا نہیں یعنی باپ اس کا نہیں تھا یا تھا۔ فرشتہ خاص کر جبرئیل مریم آپ کی والدہ کے پاس خوشخبری لائے تھے یانہیں۔ اور وہ جو جناب اپنی روایت کا ذِکر فرماتے ہیں کہ محمد صاحب سے ہمکلام ہو کے آئے ہیں۔ ہمارے نزدیک اِس کا ثبوت جناب کے پیشواکے معراج سے کچھ زیادہ نہیں معلوم ہوتا۔ نیز یہ بھی ہمارا استفسار ہے کہ جناب یونی ٹیریوں اوررومن کیتھلک کو ہمارے اُوپر حاکم کیوں بناتے ہیں وہ مسیحی تو کہلاتے ہیں مگر ہم اُن کو بد معنے مسیحی کہتے ہیں۔ ہمارے آرچ بشپ ڈپٹی صاحب نے جب حلقہ اِس طرح کا کھینچا کہ دین مسیح کہاں تک مؤثر ہے تو اُنہوں نے تو اہلِ اسلام کو بھی مسیحیوں میں گِنا ہے۔ اور دلائل اِس کے قرآن سے دیئے ہیں لیکن ہم ان کو صحیح مسیحی نہیں مان سکتے۔ (باقی آئندہ) دستخط دستخط بحروف انگریزی بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان از جانب اہل اسلام