کا ہمارا الزام ہے۔ موسیٰ کے جہاد اور قسم کے تھے انمیں سے امان منحصر بہ ایمان کوئی نہ دکھلاسکے گا اور یہاں آیت مذکورہ میں نہ دفعیہ کا جہاد ہے نہ انتقام کا جہاد نہ انتظام کا جہادؔ بلکہ وہ جہادہے جو اُصول قرآنی کو نہ مانے وہ ماراجائے اِسی کا نام ہے ایمان بالجبر۔ ہمارے مکرم سر سیّد احمد خان بہادر نے جہاد بالجبر کو نہیں مانا۔ اُن کا فرمانا یہ ہے کہ یا مانو یا مرو یا جزیہ گذار ہو کر جیتے رہو۔ لیکن بابت تیسری شرط یعنی جزیہ کے ہمارا سوال ان سے یہ ہے کہ متعلق اہل کتاب کے اِس لفظ کو کیوں لکھا من الذین میں لفظ من کافاضل ہے اور اہل کتاب کا لفظ سارے اس کے متن سے مستثنیٰ ہے۔ پھر یہ کیا خوش فہمی نہیں کہ اِس تیسری شرط کو بھی عامہ قرار دیا جائے۔ اور وہ صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ جملہ3۱ سے سارا اعتراض ایمان بالجبر کا باطل ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر ہم دکھلا سکیں کہ قرآن میں یہ حکم بھی ہے کہ اے مسلمانوں جب تمہارے سامنے کوئی سفید پوش آوے اور تم کو سلام علیک کرے تو تم اس کے کپڑے اتار لینے کے واسطے یُوں مت کہو کہ تو مکّار ہے درحقیقت مسلمان نہیں خدا تم کو دَولت اور طرح بہت دے دے گا۔ تو کیا یہ اکراہ نہیں کہ بہ بُہتان مکّاری اُس کے کپڑے اتار لیویں اور کیا یہ پالسی کے برخلاف نہیں جو ترقی دین کو روک دیتا ہے۔ علٰی ہٰذالقیاس اور بھی چند شق اس امر کے ہیں جو سمت مخالف سے پیش ہو سکتے ہیں جن کے پیش ہونے پر ہم اس کا جواب دینگے۔
سوم۔ نمونہ تعلیمات قرآن کا تو یہ ہے جو اوپر عرض ہوا تِسپر معجزات کا خفیف ساپردہ بھی کچھ نہیں جو کچھ دھوکہ دے سکے۔ چنانچہ محمد صاحب کو صاحب معجزہ ہونے کا انکار مطلق ہے۔
بعض محمدی صاحبان 3۲ میں ایک بڑا معجزہ فصاحت و بلاغت کا بیان کرتے ہیں مگر کس امر میں مثال طلب کی جاتی ہے اس آیت میں اس کا ذکر کچھ نہیں فصاحت وبلاغت کے دعویٰ کا قرآن میں کہیں لفظ تک نہیں۔غالبًا مراد قرآنی اِس دعویٰ میں یہ ہے کہ از آنجا قرآن خلاصہ کتب انبیاء سلف کا ہے جن کو خدا کے سواکوئی مخلوق نہیں بنا سکتا ۔ لہٰذا وہ بھی یعنی قرآن بے مثل ہے یعنی اس میں تقدس تعلیمات کا دعویٰ ہے فصاحت بلاغت کا نہیں بلکہ برخلاف فصاحت و بلاغت کے قرآن میں یوں بھی لکھا ہے کہ وہ آسان کیا گیا عربی زبان میں واسطے اہل عرب کے۔