بپ ٹسماپا کر یردن میں سے نکلا اور جسوقت یہ صدا آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے مَیں اس سے راضی ہوں تمؔ اس کی سُنو۔ اسوقت سے وہ مسیح ہؤا۔ پس اُن دونوں صداؤں کو مَیں مشابہ پُھوٹے ڈھول یا پھٹے نقارہ کے قرار دیتا ہوں۔ دوئم۔فریق ثانی نے یقینًا میرے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ تقاضائے عدل الٰہی کیونکر پُورا ہوا اور نہ اسکے عدل کا کچھ لحاظ فرمایا۔ اسی لئے میں اس سوال پر اور کچھ نہ کہتا ہوں نہ سنتا ہوں۔ باقی سوال جو میرے ہیں ان کو پیش کرتاہوں۔ منجملہ ان سوالوں کے پہلا سوال میرا یہ ہے(س۴ر۷) ۱؂ کہتے ہیں کچھ بھی کام ہے ہمارے ہاتھ۔ توکہہ کہ سب کام ہیں اللہ کے ہاتھ۔انجیل میں ایسا تو لکھا ہے کہ پری ولج جسکا ترجمہ قریب قریب لفظ وسعت سے ہو سکتا ہے منجانب اللہ کے بخشے جاتے ہیں چنانچہ کسی کو ظرف یا عضو عزت کا بنایاگیاہے اور کسی کو ذلّت کا۔ پھر کسی کو مخدوم ہونا بخشا گیا ہے اور کسی کو خادم ہونا۔ لیکن جہنّم کسی کے نصیب نہیں کیا گیا۔ اور نہ تباہ شدنی کسی کو ٹھہرایا گیا ہے اور پھر یہ بھی لکھا ہے کہ فرعون کو اِسی لئے برپاہونے دیا گیا۔ (اصل لفظ ہے برپا کیاگیا۔ مُراد اسکی ہے برپاہونے دیا گیا)تاکہ اس میں جلال صفات الٰہی کا زیادہ ہو لیکن یہ نہیں لکھا کہ انسان کو کچھ بھی اختیار نہیں تاہم اسکے عملوں پر مواخذہ ہے۔ غرضیکہ قرآن و انجیل کی تعلیم میں یہ فرق ہے کہ قرآن تو اختیار انسانی کے متناقض تعلیم دیتا ہے اور انجیل پری ولجوں میں اور پرمشنوں میں اختیار فعل مختیاری انسان کا نقیض نہیں کرتی اور اگرچہ قرآن میں ساتھ جبر کے قدر بھی ہے لیکن یہ دونوں باہم متفق نہیں ہوسکتے۔ تیسرا سوال ہمارا یہ ہے کہ جبکہ قرآن کی سورۃ توبہ رکوع ۴ میں یُوں لکھا ہے کہ قتل کرو انکو جو اللہ اور دن قیامت کو نہیں مانتے اورنہ حرام کرتے اُس شے کو اپنے اوپر جس کو اللہ و رسول نے حرام کیا منجملہ انکے جو اہل کتاب ہیں جب تک دیتے رہیں جزیہ اپنے ہاتھوں سے اور ذلیل رہیں۔ اس میں ایمان بالجبر