دسواؔ ں پرچہ
مباحثہ یکم جون ۱۸۹۳ ء
روئیداد
آج پھر جلسہ منعقد ہوا اور ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب نے ۶ بجے ۸ منٹ پر سوال لکھانا شروع کیا اور ۷ بجے ۴۰ منٹ پر ختم کیا اور بلند آواز سے سُنایا گیا۔ بعدہ‘ مرزاصاحب نے ۸ بجے ایک منٹ پر جواب لکھانا شروع کیا اور ۹ بجے ایک منٹ پر ختم کیا اور بلند آواز سے سنایا گیا بعد اسکے ڈپٹی صاحب نے ۹ بجے ۲۷ منٹ پر شروع کیا اور ۱۰بجے ۶ منٹ پر ختم کیا اور بلند آواز سے سنایاگیا بعد ازاں تحریروں پر میر مجلس صاحبان کے دستخط ہو کر جلسہ برخاست ہوا۔
دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی
ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ
از جانب عیسائی صاحبان از جانب اہل اسلام
بیان ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب
مَیں نے کل کے بیانات فریق ثانی میں دو صدائیں عجیب و غریب سُنی ہیں۔ یعنی ایک یہ کہ گویا مَیں نے آپ کے کسی امر کا جواب نہیں دیا دُوسرا یہ کہ گویا مَیں نے اقبال کیا ہے کہ اقنوم ثانی الوہیت سے مسیح کی انسانیت تیس برس تک خالی رہی ہے۔ اگر یہ غلط فہمی ہے تو اِن دو امروں کی اصلاح اسوقت مَیں کرتا ہوں۔ پہلی غلطی کا میرا یہ جواب ہے کہ بعد طبع ہونے مباحثہ کل کے عام کے سامنے وہ رکھا جائے گا کہ منصف مزاج آپ ہی فیصلہ کرلیں گے کہ مَیں نے جواب نہیں دیا یاکہ فریق ثانی نے جواب نہیں دیا۔ دُوسرے بارہ میں میرا جواب یہ تھا کہ مسیحیت میں خصوصیت مظہریت کی نمودار اس وقت ہوئی کہ جب وہ