کے یہ آپ کا خوب جواب ہے سوال تو یہ تھا کہ ان دونوں میں سے آپ حقیقی کس کو مانتے ہیں۔ آپ نے اس کا کچھ بھی جواب نہ دیا۔ پھر آپ دعوے کے طورپر فرماتے ہیں کہ آسمان کے نیچے دُوسرا نام نہیں جس سے نجات ہو اورنیز یہ بھی کہتے ہیں کہ مسیح گناہ سے پاک تھا اور دوسرے نبی گناہ سے پاک نہیں مگر تعجب کہ حضرت مسیح نے کسی مقام میں نہیں فرمایا کہ مَیں خداتعالیٰ کے حضور میں ہر ایک قصور اور ہر ایک خطا سے پاک ہوں اور یہ کہنا حضرت مسیح کا کہ کون تم میں سے مجھ پر الزام لگا سکتاہے یہ الگ بات ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ تمہارے مقابل پر اور تمہارے الزام سے میں مجرم اور مفتری نہیں ٹھہر سکتالیکن خداتعالیٰ کے حضور میں حضرت مسیح صاف اپنے تقصیر وار ہونے کا اقرار کرتے ہیں جیساکہ متی باب ۱۹ سے ظاہر ہے کہ انہوں نے اپنے نیک ہونے سے انکار کیا۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ قرآن اورانجیل دونوں کلام خداہو کر پھر دو مختلف طریقے نجات کے کیوں بیان کرتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ جو قرآن کے مخالف انجیل کے حوالہ سے طریقہ بیان کیاجاتا ہے وہ صرف آپ کا بے بنیاد خیال ہے۔ اب تک آپ نے ثابت کر کے نہیں دکھایا کہ حضرت مسیح کا قول ہے انجیل میں تو نہ بالصراحت و بالفاظ کہیں تثلیت کا لفظ موجودہے اور نہ رحم بلا مبادلہ کا۔قرآن کریم کی تصدیق کیلئے وہ حوالجات کافی ہیں جو ابھی ہم نے پیش کئے ہیں جبکہ قرآن اور عہد عتیق اورجدید کے بہت سے اقوال بالاتفاق آپ کے کفارہ کے مخالف ٹھہرے ہیں تو کم سے کم آپ کو یہ کہنا چاہیئے کہ اس عقیدہ میں آپ سے غلط فہمی ہو گئی ہے۔ کیونکہ ایک عبارت کے معنے کرنے میں کبھی انسان دھوکا بھی کھا جاتا ہے جیسا آپ فرماتے ہیں کہ آپ کے بھائیوں رومن کیتھلک اور یونی ٹیرین نے انجیل کے سمجھنے میں دھوکا کھایا ہے اور وہ دونوں فریق آپکو دھوکہ پر سمجھتے ہیں۔ پھر جب گھر میں ہی پُھوٹ تو پھر آپ کا اتفاقی مسئلہ کو چھوڑ دینا اور اختلافی خبر کو پکڑ لینا کب جائز ہے۔ ( باقی آئندہ) دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی غلام قادر فصیح ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام پریزیڈنٹ ازجانب عیسائی صاحبان