اس طرح سے سارے نبی جیتے ہیں۔ مردہ کون ہے کیا انجیل میں نہیں لکھا کہ حواریوں نے حضرت موسیٰ اور الیاس کو دیکھا اور ایسا کہا کہ اے اُستاد اگر فرماویں تو آپ کے لئے جُدا خیمہ اور موسیٰ کے لئے جُدا اور الیاس کیلئے جُدا کھڑا کیا جائے پھر اگر حضرت موسیٰ مردہ تھے تو نظر کیوں آگئے کیا مردہ بھی حاضر ہوجایاکرتے ہیں پھر اسی انجیل میں لکھا ہوا ہے کہ لعاذر مرنے کے بعد حضرت ابراہیم کی گود میں بٹھایاگیا اگر حضرت ابراہیم مُردہ تھے تو کیا مُردہ کی گود میں بٹھایا گیا واضح رہے کہ ہم حضرت مسیح کی اس زندگی کی خصوصیت کو ہرگز نہیں مانتے بلکہ ہمارا یہ مذہب موافق کتاب و سنت کے ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ حیات اقویٰ اور اعلیٰ رکھتے ہیں اور کسی نبی کی ایسی اعلیٰ درجہ کی حیات نہیں ہے جیسے آنحضرت صلعم کی۔ چنانچہ مَیں نے کئی دفعہ آنحضرت کو اِسی بیداری میں دیکھا ہے باتیں کی ہیں مسائل پوچھے ہیں اگر حضرت مسیح زندہ ہیں تو کیاکبھی کسی نے آپ لوگوں میں سے بیداری میں انکو دیکھا ہے پھر آپ کا یہ فرمانا کہ حضرت مسیح روح القدس کے نازل ہونے سے پہلے مظہر اللہ نہیں تھے یہ اقبالی ڈگری ہے۔ آپ نے مان لیا ہے کہ تیس برس تک تو حضرت مسیح خالص انسان تھے مظہر وغیرہ نام ونشان نہ تھا پھر تیس برس کے بعد جب روح القدس کبوتر کی شکل ہو کر ان میں اتراتو پھر مظہر اللہ بنے۔ مَیں اس جگہ اس وقت شکر کرتا ہوں کہ آج کے دن ایک فتح عظیم ہم کو میسر آئی کہ آپ نے خود اقرار کر لیا کہ تیس برس تک حضرت مسیح مظہر اللہ ہونے سے بالکل بے بہرہ رہے نرے انسان تھے۔ اَب بعد اِس کے یہ دعویٰ کرنا کہ پھر کبوتر اُترنے کے بعد مظہراللہ بن گئے یہ دعویٰ ناظرین کی توجہ کے لائق ہے کیونکہ اگر روح القدس کا اُترناانسان کو خدا اور مظہر اللہ بنا دیتا ہے تو حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا حضرت یوسف حضرت یوشع بن نون اور کل حواری خدا ٹھہر جائیں گے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ کیامجسم ہونے سے وزنی ہو سکتاہے۔ یہ عجب سوال ہے۔ کیا آپ کوئی ایسا جسم پیش کرؔ سکتے ہیں کہ اس کو جسم تو کہا جائے مگر جسمانی لوازمات سے بالکل مبرّا ہو۔ مگر شکر یہ تو آپ نے مان لیا کہ آپ کے باپ اور بیٹا اور رُوح القدس تینوں مجسم ہیں۔ پھر آپ فرماتے ہیں کثرت فی الوحدت اور وحدت میں کوئی تضاد نہیں ایک جگہ پائی جاتی ہیں یعنی بہ لحاظ جہات مختلفہ