حزقیل ۱۴۱۴ دانیال۴۶ زبور ۳۱۳۰و۴و۷ زبور ۷۸۳۸میکا ۷۱۸ ۔
غرض کہاں تک لکھوں آپ ان کتابوں کو کھول کر پڑھیں اور دیکھیں کہ سب سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ رحم بلامبادلہ کی کچھ ضرورت نہیں اور ہمیشہ سے خدا تعالیٰ مختلف ذرائع سے رحم کرتا چلا آیا ہے پھر آپ فرماتے ہیں کہ توبہ اور ایمان باہر کے پھاٹک ہیں یعنی باوجود توبہ اور ایمان کے پھر بھی کفارہ کی ضرورت ہے یہ آپ کا صرف دعویٰ ہے جو ان تمام کتابوں سے مخالف ہے جن کے میں نے حوالہ دے دئیے۔ ہاں اس قدر سچ ہے کہ جیسے اللہ جلّ شانہٗنے باوجود انسان کے خطا کار اور تقصیر وار ہونے کے اپنے رحم کو کم نہیں کیا ایسا ہی وہ توبہ کے قبول کرنے کے وقت بھی وہی رحم مدنظر رکھتا ہے اور فضل کی راہ سے انسان کی بضاعت مزجات کو کافی سمجھ کر قبول فرما لیتا ہے اس کی اس عادت کو اگر دوسرے لفظوں میں فضل کے ساتھ تعبیر کر دیں اور یہ کہہ دیں کہ نجات فضل سے ہے تو عین مناسب ہے کیونکہ جیسے ایک غریب اور عاجز انسان ایک پھول تحفہ کے طور پر بادشاہ کی خدمت میں لے جاوے اور بادشاہ اپنی عنایات بے غایات سے اور اپنی حیثیت پر نظر کر کے اس کو وہ انعام دے جو پھول کی مقدار سے ہزارہا بلکہ کروڑ ہا درجہ بڑھ کر ہے تو یہ کچھ بعید بات نہیں ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ کا معاملہ ہے وہ اپنے فضل کے ساتھ اپنی خدائی کے شان کے موافق ایک گدا ذلیل حقیر کو قبول کر لیتا ہے جیساکہ دیکھاجاتا ہے کہ دعاؤں کا قبول ہونا بھی فضل ہی پر موقوف ہے جس سے بائیبل بھری ہوئی ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ اگرچہ مسیح میں اور کچھ بھی زیادتی نہیں صرف ایک انسان ہے جیسے اور انسان ہیں اور خداتعالیٰ وہی علاقہ عام طور کا اس سے رکھتا ہے جو اوروں سے رکھتاہے لیکن ؔ کفارہ سے اور مسیح کے آسمان پر جانے سے اوراس کے بے باپ پَیدا ہونے سے اسکی خصوصیت ثابت ہوتی ہے اِس قول سے مجھے بڑا تعجب پیدا ہوا ۔کیادعووں کا پیش کرنا آپ کی کچھ عادت ہے ہم لوگ کب اِس بات کو مانتے ہیں کہ مسیح جی اُٹھا۔ ہاں حضرت مسیح کا وفات پا جانا قرآن شریف کے کئی مقام میں ثابت ہے لیکن اگر جی اٹھنے سے رُوحانی زندگی مُراد ہے تو