سے بغیر شرط کسی کی راستبازی کے جاری ہے اور جو گناہ خدا تعالیٰ کی کتاب نے پیش کئے وہ مشروط بشرائط ہیں یعنی یہ کہ جس کو وہ احکام پہنچائے گئے ہیں اس پر وہ بطور حجت کے وارد ہوں اور وہ دیوانہ اور مجنون بھی نہ ہو۔ اور مالکیت پر آپ یہ جرح فرماتے ہیں کہ اگر مالکیت کو تسلیم کیا جائے تو سارا کارخانہ درہم برہم ہو جاتا ہے تو آپ کو سوچنا چاہیئے کہ یہ کارخانہ اپنی مد کی ذیل میں چل رہا ہے پھر درہم برہم ہونے کے کیا معنے ہیں مثلاً جو شخص خدا تعالیٰ کے قانون کی خلاف ورزی کرکے اس کے قانونی وعدہ کے موافق سزاوار کسی سزا کا ٹھہرتا ہے تو خدا تعالیٰ گو مالک ہے کہ اس کو بخش دیوے لیکن بلحاظ اپنے وعدہ کے جب تک وہ شخص ان طریقوں سے اپنے تئیں قابل معافی نہ ٹھہرا دے جو کتاب الٰہی مقرر کرتی ہے تب تک وہ مواخذہ سے بچ نہیں سکتا۔ کیونکہ وعدہ ہوچکا ہے لیکن اگر کتاب الٰہی مثلاً نازل نہ ہو یا کسی تک نہ پہنچے یا مثلاً وہ بچہ اور دیوانہ ہو تو تب اس کے ساتھ جو معاملہ کیا جائے گا وہ مالکیت کا معاملہ ہوگا۔ اگر یہ نہیں تو پھر سخت اعتراض وارد ہوتا ہے کہ کیوں چھوٹے بچے مدتوں تک ہولناک دکھوں میں مبتلا رہ کر پھر ہلاک ہوتے ہیں اور کیوں کروڑہا حیوانات مارے جاتے ہیں ہمارے پاس بجز اس کے کوئی اور جواب بھی ہے کہ وہ مالک ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ پھر آپ اپنے پہلے قول پر ضد کرکے فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو کسی کی شفاعت سے گناہ بخشے جاتے ہیں وہ ایک انتظامی امر ہے افسوس کہ آپ اس وقت مقنن کیوں بن گئے اور توریت کی آیتوں کو کیوں منسوخ کرنے لگے اگر صرف انتظامی امر ہے اور حقیقت میں گناہ بخشے نہیں جاتے تو توریت سے اس کا ثبوتؔ دینا چاہیئے۔ توریت صاف کہتی ہے کہ حضرت موسیٰ کی شفاعت سے کئی مرتبہ گناہ بخشے گئے۔ اور بائیبل کے تقریباً کل صحیفے خدا تعالیٰ کے رحیم اور توّاب ہونے پر ہمارے ساتھ اتفاق رکھتے ہیں دیکھو یسعیا ۵۵ ۷ یرمیا ۳۳ ۱تواریخ دوم ۱۴۷زبور چہارم ۳۲۵ امثال۲۸ ۱۳ اسی
طرح لوقا۳۔۴۱۷ ولوقا ۴سے۲۴۱۵ لوقا ۲۵و۲۸۱۰مرقس ۱۶۱۶ اور پیدائش ۹و۷۶ کتاب ایوب۱۱