اسرحم کے لئے گناہ اور غفلت اور تقصیر داری بطور روک کے نہیں ہوسکتی اور اگر ہو تو ایک دم بھی انسان کی زندگی مشکل ہے پھر جب کہ یہ سلسلہ رحم کا بغیر شرط راستبازی اور معصومیت اور نیکوکاری انسانوں کی دنیا میں پایا جاتا ہے اور صریح قانون قدرت اس کی گواہی دے رہا ہے تو پھر کیونکر اس سے انکار کردیا جاوے اور اس نئے اور خلاف صحیفہ فطرت کے عقیدہ پر کیونکر ایمان لایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا رحم انسانوں کی راستبازی سے وابستہ ہے اللہ جلّ شانہٗ نے قرآن شریف کے کئی مقامات میں نظیر کے طور پر وہ آیات پیش کی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کیونکر سلسلہ رحم کا نہایت وسیع دائرہ کے ساتھ تمام مخلوقات کو مستفیض کر رہا ہے چنانچہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ ؂س ۱۳ ر ۱۷۔پھر فرماتا ہے۔ ۲؂ اورپھرفرماتاہے۔ 3۳؂اور پھر فرماتا ہے۔ ۴؂ ان تمام آیات سے خدا تعالیٰ نے اپنی کلام کریم میں صاف قانون قدرت کا ثبوت دے دیا ہے کہ اس کا رحم بلا شرط ہے کسیؔ کی راستبازی کی شرط نہیں ہاں جرائم کا سلسلہ قانون الٰہی کے نکلنے سے شروع ہوتا ہے جیسا کہ آپ خود مانتے ہیں اور اسی وقت عدل کی صفت کے ظہور کا زمانہ آتا ہے گو عدل ایک ازلی صفت ہے مگر آپ اگر ذرہ زیادہ غورکریں گے تو سمجھ جائیں گے کہ صفات کے ظہور میں حادثات کی رعایت سے ضرور تقدیم تاخیرہوتی ہے پھر جب کہ گناہ اس وقت سے شروع ہوا کہ جب کتاب الٰہی نے دنیا میں نزول فرمایا اور پھر اس نے خوارق و نشانوں کے ساتھ اپنی سچّائی بھی ثابت کی تو پھر رحم بلامبادلہ کہاں رہا۔ کیونکہ رحم کا سلسلہ تو پہلے ہی