پیش کر رہے ہیں آپ میرے اس بیان کو کہ رحم ظہور میں اول اور فائق درجہ پر ہے قبل اس کے کہ اس کو سمجھیں قابل جرح قرار دیتے ہیں اگرچہ اس میں کلام نہیں کہ خدا تعالیٰ کی تمام صفات کاملہ ازلی و ابدی ہیں مگر اس عالم حادث میں ظہور کے وقت جیسا کہ موقعہ ہوتا ہے ضرورت کے رو سے تاخیر و تقدیم ہو جاتی ہے اس بات کو کون شخص سمجھ نہیں سکتا کہ باعتبار ظہور کے رحم پہلی مرتبہ پر ہے کیونکہ کسی کتاب کے نکلنے کا محتاج نہیں اور اس بات کی حاجت نہیں رکھتا کہ تمام لوگ عقلمند اور فہیم ہی ہو جائیں بلکہ وہ رحم جیسا عقلمندوں پر اپنا فیضان وارد کر رہا ہے ویسا ہی بچوں اور دیوانوں اور حیوانات پر بھی وہی رحم کام کر رہا ہے لیکن عدل کے ظہور کا وقت گو عدل کی صفت قدیم ہے اس وقت ہوتا ہے کہ جب قانون الٰہی نکل کر خلق اللہ پر اپنی حجت پوری کرے اور اپنا سچّا قانون ہونا اور منجانب اللہ ہونا ثابت کر دیوے۔ پھر اس کے بعد جو شخص اس کی خلاف ورزی کرے تو وہ پکڑا جائے گا۔ یہی تو میرا سوال تھا کہ آپ کا سوال رحم بلامبادلہ کا تب ٹھیک بیٹھتا ہے کہ ظہور رحم اور ظہور عدل کے دونوں وقت ایک ہی زمانہ میں سمجھے جائیں اور ان میں ہر جگہ پر ایک تلازم رکھا جائے لیکن ظاہر ہے کہ رحم کا دائرہ تو بہت وسیع اورؔ چوڑا ہے اور وہ ابتدا سے جب سے دنیا ظہور میں آئی اپنے فیضان دکھلا رہا ہے پھر عدل کا رحم سے کیا تعلق ہوا اور ایک دوسرے کی مزاحمت کیونکر کر سکتے ہیں۔ آپ کے رحم بلامبادلہ کا بجز اس کے میں کوئی اور خلاصہ نہیں سمجھتا کہ عدل سزا کو چاہتا ہے رحم عفو اور درگزر کو چاہتا ہے لیکن جب کہ رحم اور عدل اپنے مظہروں میں مساوی اور ایک درجہ کے نہ ٹھہرے اور یہ ثابت ہو گیا کہ خدا تعالٰے کے رحم نے کسی کی راستبازی کی ضرورت نہیں سمجھی اور ہر ایک نیکو کار اور بدکار پر اس کی رحمانیت قدیم سے اثر ڈالتی چلی آئی ہے تو پھر یہ کیونکر ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ بدکاروں کو ایک ذرہ رحم کا مزہ چکھانا نہیں چاہتا۔ کیا قانون قدرت جو ہماری نظر کے سامنے پکار پکار کر شہادت نہیں دے رہا۔ کہ