چہارم۔ مَیں نے کل بھی عرض کیا تھا کہ دُکھ تین قسم کے ہیں یعنی ایک وہ جس کو سزائیہ کہتے ہیں۔ جس کے معنے معاوضہ ہرجانہ کے ہیں اور جس کی حد یہ ہے کہ جب تک وہ ہرجہ ادا نہ ہو ہرجہ رساں کی رہائی بھی نہ ہو۔ دُوسری قسم مصقل سُکھ کی ہے جس سے میری مُراد یہ ہے کہ محتاج بالغیر علم کسی شے کا بغیر مقابلہ ضد اس کی کے۔ صاف نہیں پاتا۔ جیساکہ اندھا مادرزاد سفیدی کو تونہیں جانتا مگر تاریکی کو بھی بخوبی نہیں پہچانتا۔ گو وہ ہمیشہ اسکے سامنے ہے۔ ایسا ہی اگر آدمی کو بہشت میں بھیجا جائے اور مقابلہ کے واسطے اس نے کبھی دکھ نہ دیکھا ہو تو بہشت کی قدر و عافیت نہیں جانتا۔ تیسرا دکھ امتحان کا ہے یعنی اعمال بالقوہ کو بفعل لوانے کے واسطے باختیار اس شخص کے کہ جس کے وہ فعل ہیں ضرور ہے کہ اسکو ایسی دوشے کے درمیان رکھا جائے جو مساوی یک دگر ہوں و ضد فی الحاصل درآن واحد ہوں کہ جن میں سے احدی کارویا قبول کرنا بغیر توڑ اور دُکھ کے نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ تین اقسام صحیح ہیں تو آپ کا کیا حق ہے کہ جو جاندار دُنیا میں دُکھ پاتے ہیں ان کے دُکھ کو سزائیہ ہی قرار دیں۔
پنجم ۔جناب کا اِس امر کا نہ سمجھنا کہ مسیح میں خصوصیت ظہور کی کیا ہے جبکہ ہر شے مظہر الٰہی ہے اِس کا جواب عرض کرتا ہوں کہ خصوصیت یہ ہے کہ مسیح کے علاقہ سے اللہ تعالےٰ نے کفارہ کاکام پورا کرایا۔ خداتعالیٰ دُکھ اٹھانے سے بری مطلق ہے۔ مخلوق ؔ سب کا بوجھ اٹھاکر باقی نہیں رہ سکتا۔ یہاں پر خدا تعالیٰ نے یہ کیا کہ پاک انسان نے سب بوجھ اپنے سر پر اٹھایا اور اقنوم ثانی الوہیت کے لئے اس کو اٹھوایا اور یوں وہ دکھ پناہ ہوا۔ کیونکہ اس موقعہ پر مقابلہ روبا بدروان سزا کا ساتھ ازلی و ابدی اقنوم ثانی کے ہوا۔ یہ خصوصیت مظہریت کی اور کہاں ہے۔ آپ ہی اس کو دِکھلاویں اور اس خصوصیت کو مسیح میں ہماری زبانی آپ قبول نہ کریں مگر تا وقتیکہ بائیبل کو آپ ردّ نہ کریں تو آپ کا حق نہیں کہ اِس پر عذر کریں کہ کیا مسیح کا معجزہ ہی پَیدا ہونا ماراجانا جی اٹھنا اور صعود کرنا آسمان پر۔ ان کے