بھی کچھ معنے ہیں یانہیں جناب ہی فرماویں اورجبکہ لکھا ہے کہ خون بہانے بدوں نجات نہیں عبرانی ۹۲۲ و احبار ۷۱۱ اورکہ ساری قربانیاں توریت کی اسی پر ایما کرتی ہیں اور پھر لکھا ہے کہ آسمان کے نیچے دُوسرا نام نہیں دیاگیا کہ نجات ہو اعمال ۴۱۲ ۔ ان سب باتوں کے جناب کچھ معنے فرماویں اورایسے ہی سرسری بے جواب گذار نہ فرماویں۔
ششم ۔ جناب جو پُوچھتے ہیں کہ مظہر اللہ مسیح بعد نزول روح القدس کے ہوئی یا مابعد اسکے۔ ہمارا اِس جگہ پر جواب قیاسی ہے۔ رُوح القدس کے نازل ہونے کے وقت ہوئی کلام الٰہی میں اس کا وقت کوئی معین نہیں ہوا۔ خصوصیت کا انحصال آگے اور پیچھے مظہر اللہ ہونے پر کیا ہے جناب نے اِس امر کو مشرح نہیں فرمایا۔ اِسی لئے ہم اور زیادہ جواب نہیں دے سکتے۔
ہفتم۔ اگرچہ ہر سہ اقانیم کا مجسّم ہونا آپ نے بہت صحیح نہیں فرمایا لیکن تاہم مجسّم ہونے سے وہ وزنی ہو جاتے ہیں جیساکہ آپ نے یہ کہا ہے کہ برائے مثال ہر ایک تین تین سیر کا اقنوم ہو توجملہ اس کا نو سیر ہوتا ہے۔
ہشتم۔ توحید فی التثلیث کی تعلیم میں ہماری مراد یہ نہیں ہے کہ ایک ہی صُورت میں واحد اور ایک ہی صورت میں تثلیث ہے بلکہ ہمارا ماننا یہ ہے کہ ایک صورت میں ایک اور دُوسری صورت میں تین ہیں۔ اور جب ہم نے عرض کیا کہ ان تین میں اس قسم کا علاقہ ہے کہ جیسے بے نظیری بے حدی سے نکل کر زمان ومکان دُوسرا نہیں چاہتے تاہم ان دو صفات کی تعریف علیحدہ علیحدہ ہے اور یہ دونوں صفات ایک جیسی ہیں ایسا ہی اقانیم کی صُورت ہے کہ ایک قائم فی نفسہٖ ہے اور دولازم ملزوم ساتھ اس ایک کے اِس کے سمجھنےؔ کے واسطے آپ اس بیان پر بھی توجہ فرماویں کہ انتقام جو ئے و صلح جوئے شخص واحد سے آنِ واحد میں محال مطلق ہے حالانکہ اگر گناہگار کی مغفرت ہو تو یہ ہر دو یکساں چلتے ہیں اور ایک اقنوم سے یہ ادا نہیں ہو سکتی اِس سے لازم آتا ہے کہ کم از کم دو اقانیم ہونے چاہئیں۔ وقت کم ہے بے نظیری کی ہم تعریف کچھ کرنا چاہتے ہیں بے نظیری مطلق وہ شے