مقتول جی اٹھتا ہے۔ اور اگر قاتل کو پھانسی دیں گے تو مقتول کو اس سے کیا ہے۔ خدا وند کی عدالت ایسی نہیں بلکہ یہ ہے کہ جب تک وہ ہرجہ گناہ واپس نہ ہو معاوضہ کی سزا سے بھی رہائی نہ ہووے۔
دوم۔ جو آپ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم نے معافی کا کیا طریق ٹھہرایا ہے ۔ اوّل تو آپ کا یہ کہنا ہی جائز نہیں اِس لئے کہ واحد خدا کی یہ ہر دوکلام ہو کر متبائن طریقہ نہیں بتا سکتی کہ اعمال حسنہ ادائے قرضہ کی صورت ہیں کیونکہ یہ فرض عین ہے کہ ہم اعمال حسنہ کریں۔ لیکن یہ بڑی ایک تعجب کی بات ہے کہ ادائے جزو کو کل پر حاوی تصوّر کر کے وہ قرضہ بیباق سمجھاجاوے جیسا کہ ایک شخص کو سو روپیہ کسی کے دینے ہیں اور اس میں سے پچیس روپیہ دے کر یہ کہے کہ تیرا حساب بیباق ہوا۔ کوئی عقلمند اس امر کو مانے گا کہ ادائے جز کا حاوی بر کل ہے لہذا اعمال حسنہ کا ذکر آپ تب تک نہ کریں جب تک آپ یہ نہ ثابت کر لیں کہ کوئی اعمالوں کے ذریعہ سب قرضہ ادا کر سکتاہے یعنی بے گناہ مطلق رہ سکتا ہے۔ توبہ اور ایمان بیرونی پھاٹک نجات کے ضرور ہیں جیسا کہ کوئی بغیر ان کے نجات میں داخل نہیں ہو سکتا لیکن پھاٹک اندرونہ شے کا نہیں ہو سکتا کیا اگر ہم ایک مکّھی کو مار کر سَو توبہ کریں وہ جی اُٹھتی ہے اورؔ ایمان کی بابت میں اگر ہم ایمان لاویں کہ خدائے قادر اس کو پھر جلا دے سکتا ہے یہ کچھ امکان سے بڑھ کر وقوعہ ہوجاتا ہے۔ محبت و عشق فرائض اِنسانی میں ہیں ان کا ذکر اعمال حسنہ میں آچکا۔ اور ضرور نہیں۔
سوم۔ یہ آپ صریح غلط فرماتے ہیں کہ قانون قدرت خدا تعالیٰ کا کہ رحم بلا مبادلہ قدیم سے جاری ہے۔ ہماری فطرت میں اِس امر کو صدا قت اولیٰ کر کے ثبت کیا گیا ہے کہ جو کسی کا کوئی ہرجہ کریگا اسکو معاوضہ اس کا دینا پڑیگا۔ مخلوق کاہر زمان اطاعت اللہ کے واسطے رکھا گیا ہے اور وہ بغاوت میں اگر گناہ کے کٹے تو اس وقت کا ہرجہ اس کو بھرنا پڑے گا۔ اور اس کا معاوضہ یہی ہے کہ روبابدرواں سزا میں گرفتار رہے۔