بیان ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب
۳۱۔ مئی ۱۸۹۳ ء
جناب کا یہ فرمانا کہ رحم اوّل اورفائق درجہ پر ہے برخلاف بداہت ۷۵۳ کے ہے کیونکہ بداہت یہ حکم کرتی ہے کہ کوئی صفت کسی دوسری صفت سے کم نہیں بجائے خود ہر ایک پورامرتبہ رکھتی ہے۔یہ جناب نے حق فرمایا ہے کہ جب تک قانون کسی تک نہ پہنچے۔ وہ قانون شکن نہیں کہلاسکتا اور گناہ اس پر عائد نہیں ہوتا اِسی واسطے وہ بچے جو ماہیت گناہ سے واقف نہیں اور دیوانہ مادر زاد گناہ نہیں کر سکتے ۔ بلکہ اگر کوئی شخص ماہیت کسی گناہ کی نہ جانتا ہو اور وہ اُس سے سرزد ہووے۔ مواخذہ عدل میں نہ آوے گا۔اور اس کا وہ فعل گناہ نہ تصور کیاجائے گا۔ خدا اپنی مالکیت کی وجہ سے خواص اپنی صفات کے برخلاف اگر کچھ مالکیت جتائے تو سارا نقشہ اس کی قدوسی کا درہم برہمؔ ہوجاتاہے۔ لہٰذا یہ صحیح نہیں کہ مالکیت کی وجہ سے جو چاہے سو کرے حتّٰی کہ ظلم تک۔ نیز عدل کو رحم سے اِس طرح کا علاقہ تو نہیں کہ جو رحم ہے وہ عدل نہیں اور جو عدل ہے وہ رحم نہیں۔ لیکن یہ ہر دو صفات واحد و اقدس خد ا کی ہیں۔ خدا غضب بے جا ہے یہ تو کلام الٰہی میں ہو نہیں سکتا مگر اس کو بھسم کرنے والی آگ بھی لکھا ہے جو گناہگاروں کو بھسم کرتی ہے۔ استثنا۴۲۴ قانون فعل مقنن ہے اور فعل
ضرور ہے کہ اپنے فاعل سے بعد میں ہو لیکن عدل جو قانون بناتا ہے قانون جس کا فعل ہے ازلی و ابدی صفت ہے وہ عارضی طور سے پیدا نہیں ہوئی اور نہ وہ عارضی طرح سے جاسکتی ہے۔ اور یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ عدل اسکو کہا جائے کہ ہر جہ باقی رہ جائے اور گنہ گار رہا ہوجائے واضح رہے کہ دنیا کی عدالت عدالت نہیں مگر نظامت کانام ہے کہ جس کا منشا یہ ہے کہ جرائم رو بہ تنزّل رہیں نہ یہ کہ سزا کامل ہو جائے کیا ایک قاتل کو پھانسی دینے سے