کی خاطر بخش دئیے۔ لیکن اصل میں نہیں بخشے تھے پھر پکڑے گا اور چِڑ کرنے والوں کی طرح ناراض ہو کر جہنم میں ڈالے گا اِس کا آپ کے پاس کیا ثبوت ہے براہ مہربانی وہ ثبوت پیش کریں مگر توریت کے حوالہ سے جہاں یہ لکھا ہو کہ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ گو مَیں نے آج اِس نافرمانی کو بخش دیا مگر کل پھر مَیں مواخذہ کروں گا اِس جگہ آپ کی تاویل منظور نہیں ہو گی۔ اگر آپ سچ پر ہیں تو توریت کی آیت پیش کریں کیونکہ توریت کے کئی مقامات میں جوہم پیچھے سے لکھادیں گے۔ یہی صاف صاف لکھا ہے کہ خداتعالیٰ بعض نافرمانیوں کے وقت حضرت موسیٰ کی شفاعت سے ان نافرمانیوں سے درگذرکرتا رہا بلکہ بخش دینے کے الفاظ موجود ہیں۔ گنتی۱۴و ۱۲ استثنا ۹۱۹ سے ۲۲خروج ۸۸ پھر آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح کا دوسرے گناہگاروں کے عوض میں مصلوب ہونا قانون قدرت کے مخالف نہیں ایک شخص کاقرضہ دوسرا اپنی دَولت سے ادا کرسکتا ہے یہ آپ نے خوب ہی مثال دی ہے۔ پوچھا تو یہ گیا تھا کہ کیا ایک مجرم کے عوض میں دوسراشخص سزایاب ہو سکتا ہے ۔ اِس ؔ کی نظیر دُنیا میں کہاں ہے۔ آجکل انگریزی قوانین جو بڑی جستجو اور تحقیق اور رعایت انصاف سے بنائے جاتے ہیں کیا آپ نے جو ایک مدّت تک اکسٹرا اسسٹنٹ رہ چکے ہیں تعزیرات ہند وغیرہ میں کوئی ایسی بھی دفعہ لکھی ہوئی پائی ہے کہ زید کے گناہ کرنے سے بکر کو سُولی پر کھینچنا کافی ہے۔ (باقی آئندہ)
دستخط دستخط
بحروف انگریزی بحروف انگریزی
غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ
ازجانب اہل اسلام از جانب عیسائی صاحبان