سے الوہیت میں کوئی زیادہ قوت اور طاقت نہ بڑھی اگر کوئی بڑھی ہے اور مثلًا پہلے کامل تھی پھر ملنے سے یاملنے کے لحاظ سے اکمل کہلائے یا مثلًا پہلے قادر تھی اور پھر ملنے کے لحاظ سے اقدر نام رکھا گیا۔ یاپہلے خالق تھی اور پھر ملنے کے لحاظ سے خلّاق یااخلق کہا گیا۔ تو براہ مہربانی اس کا کوئی ثبوت دینا چاہیئے آپ کثیف جسموں کی طرف تو ناحق کھینچ کر لے گئے۔ مَیں نے تو ایک مثال دی تھی اور پھر وہ مثال بھی بفضلہ تعالیٰ آپ ہی کی کتابوں سے ثابت کر دِکھائی اور آپ کے یہ تمام بیانات بڑے افسوس کے لائق ہیں کیونکہ ہماری شرط کے مطابق نہ آپ دعویٰ انجیل کے الفاظ سے پیش کرتے ہیں اورنہ دلائل معقولی انجیل کے رو سے بیان فرماتے ہیں بھلا فرمائیے کہ رحم بلا مبادلہ کا لفظ انجیل شریف میں کہاں لکھا ہے اور اسکے معنے خود حضرت مسیح کے فرمودہ سے کب اورکس وقت آپ نے بیان فرمائے ہیں اِس عہد شکنی پر جس قدر اہل انصاف افسوس کریں وہ تھوڑا ہے۔ اورؔ کل جو مَیں نے قہر بلامبادلہ کا ذکر کیاتھا اس کا بھی آپ نے کوئی عمدہ جواب نہ دیا میرا مطلب تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی صفت مالکیت بغیر دیکھنے گناہ کے بجائے خود کام کر رہی ہے۔ مثلًا انسان کے بچوں کو دیکھو کہ صدہا صعب اور شدید اور ہولناک بیماریاں ہوتی ہیں اور بعض ایسے غرباء اور مساکین کے گھر میں پَیدا ہوتے ہیں کہ دانت نکلنے کے ساتھ طرح طرح کے فاقہ کو اٹھانا پڑتا ہے پھر بڑے ہوئے تو کسی کے سائیس بنائے گئے۔ اور دوسری طرف ایک شخص کسی بادشاہ کے گھر میں پَیدا ہوتا ہے پَیدا ہوتے ہی غلام اورکنیزکیں اور خادم دست بدست گود میں لئے پھرتے ہیں۔ بڑا ہو کر تخت پر بیٹھ جاتاہے۔ اِس کا کیا سبب ہے۔ کیا مالکیت سبب ہے یا آپ تناسخ کے قائل ہیں پھر اگرمالکیت ثابت ہے اور خدا تعالیٰ پر کسی کا بھی حق نہیں تو اتنا جوش کیوں دکھایاجاتاہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ موسیٰ کی شفاعتیں حقیقی شفاعتیں نہیں تھیں بلکہ ان پرمواخذہ قیامت کی پخ لگی ہوئی تھی اور گو خداتعالیٰ نے سرسری طور پر گناہ بخش دیئے اور کہدیا کہ مَیں نے موسیٰ