پھر آپ اپنی کثرت فی الوحدت کا ذکر کرتے ہیں مگر مجھے سمجھ نہیں آتا ۔ کہ کثرت حقیقی اور وحدت حقیقی کیونکر ایک جگہ جمع ہو سکتی ہیں اور ایک کو اعتباری ٹھہرانا آپ کا مذہب نہیں اِس جگہ مَیں یہ بھی پوچھتا ہوں کہ حضرت مسیح جو مظہر اللہ ٹھہرائے گئے وہ ابتدا سے اخیر وقت تک مظہر اللہ تھے اور دائمی طور پر اُن میں مظہریت پائی جاتی تھی یا اتفاقی اور کبھی کبھی اگر دائمی تھی تو پھر آپ کو ثابت کرناپڑے گا کہ حضرت مسیح کا عالم الغیب ہونا اور قادر وغیرہ کی صفات اُن میں پائے جانا یہ دائمی طورپر تھا حالانکہ انجیل شریف اس کی مکذّب ہے۔ مجھے بار بار بیان کرنے کی حاجت نہیں۔ اِس جگہ یہ بھی مجھے پوچھنا پڑا کہ جس حالت میں بقول آپ کے حضرت مسیح میں دو روحیں نہیںؔ صرف ایک روح ہے جو انسان کی روح ہے جس میں الوہیت کی ذرہ بھی آمیزش نہیں۔ ہاں جیسے خدا تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے اورجیسے کہ لکھا ہے کہ یوسف ؑ میں اس کی روح تھی حضرت مسیح ؑ کے ساتھ بھی موجود ہے۔ تو پھر حضرت مسیح اپنی ماہیّت ذاتی کے لحاظ سے کیونکر دُوسرے اقنوم ٹھہرے اوریہ بھی دریافت طلب ہے کہ حضرت مسیح کا آپ صاحبو ں کی نظر میں دُوسرا اقنوم ہونا یہ دَوری ہے یا دائمی ۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ وہ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم انتقام نہ لومَیں تعجب کرتا ہوں کہ انتقامی شریعت یعنی توریت تو خود آپ کی مسلمات میں سے ہے پھر کیونکر آپ انتقام سے گریز کرتے ہیں اور اِس بات کا مجھے ابھی تک آپ کے منہ سے جواب نہیں ملا کہ جس حالت میں تین اقنوم صفات کاملہ میں برابر درجہ کے ہیں تو ایک کامل اقنوم کے موجود ہونے کے ساتھ جو جمیع صٖفات کاملہ پر محیط ہے اور کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں کیوں دوسرے اقنوموں کی ضرورت ہے۔ اور پھر ان کاملوں کے ملنے کے بعد یا ملنے کے لحاظ سے جو اجتماعی حالت کا ایک ضروری نتیجہ ہونا چاہیئے وہ کیوں اِس جگہ پَیدانہیں ہوا۔ یعنی یہ کیا سبب ہے کہ باوجودیکہ ہر ایک اقنوم تمام کمالات مطلوبہ الوہیت کا جامع تھا پھرا ن تینوں جامعوں کے اکٹھاہونے