کل بیان کیا تھا کہ کروڑہا جانور انسان کے فائدہ کے لئے ہلاک کئے جاتے ہیں ۔ اورنیز تورات سے ثابت ہے کہ حضرت نوح کے طوفان میں بجز چند جانوروں کے باقی تمام حیوانات طوفان سے ہلاک کئے گئے۔ کیا ان کا کوئی گناہ تھا کوئی نہ تھا۔ صرف مالکیت کا تقاضا تھا۔ اور یہ بات کہ گناہ قانون سے پیدا ہوتا ہے یہ اِس آیت سے صاف ثابت ہے ۱س۱ر۴۔یعنی جو لوگ ہماری کتاب پہنچنے کے بعد کفر اختیار کریں اورتکذیب کریں وہ جہنمؔ میں گرائے جائیں گے۔ اور پھر خداتعالیٰ کا توبہ سے گناہ بخشنا اِس آیت سے ثابت ہے۔ ۲ س۲۴ر۶۔ اور خدا تعالیٰ کی رحمانیت اور رحیمیت اور مالکیت اِن آیات سے ثابت ہے۔۳ اوربقیہ جوابات ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب کے ذیل میں لکھتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح کی رُوح مخلوق تھی اورجسم بھی مخلوق تھا اور خدا تعالیٰ اِس طرح اُن سے تعلق رکھتا تھا جیسا کہ وہ ہرجگہ موجود ہے یہ فرمانا ڈپٹی صاحب کا مجھے سمجھ نہیں آتا جبکہ حضرت مسیح نرے انسان ہی تھے اوران میں کچھ بھی نہیں تھا تو پھر خدا تعالیٰ کاتعلق اورخدا تعالیٰ کا موجودہونا ہر ایک جگہ پایاجاتا ہے پھر باوجود اس کے آپ اِس بات پر زور دیتے ہیں کہ حضرت مسیح مظہر اللہ ہیں۔ مَیں سوچتا ہوں کہ یہ مظہر اللہ کیسے ہوئے اِس سے تو لازم آیا کہ ہر ایک چیز مظہراللہ ہے۔ پھر میر ایہ سوال ہے کیایہ مظہر اللہ ہونا رُوح القدس کے نازل ہونے سے پہلے ہوا یارُوح القدس کے پیچھے ہوا۔ اگر پیچھے ہوا تو پھر آپ کی کیا خصوصیّت رہی۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ ہم یہ نہیں مانتے کہ خدا تعالیٰ کی ذات کثیف ہے لہٰذا اس میں وزن کیونکر ہو۔ میرا جواب ہے کہ بیٹا یعنی حضرت عیسیٰ کا اقنوم مجسم ہونا ثابت ہے کیونکہ لکھا ہے کہ کلام مجسّم ہوا اوررُوح القدس بھی مجسم تھا کیونکہ لکھا ہے کہ کبوتر کی شکل میں اترا اور آپ کا خدا بھی مجسم ہے کیونکہ یعقوب سے کشتی کری اور دیکھابھی گیا اور بیٹا اِس کے دہنے ہاتھ جا بیٹھا۔