اب منصف لوگ دیکھ لیں کہ قرآن کریم نے معافی کا کیا طریق ٹھہرایا اورانجیل شریف کے رو سے معافی کا کیا طریق بیان کیاجاتا ہے سو واضح ہو کہ قرآن کریم کی ہدایتیں کسی شخص کی معافی کے لئے کوئی بے جا تشدّد اورکوئی اصول جو ظلم تک منجر ہو بیان نہیں فرماتیں صرف اصلی اور طبعی طور پر یہ فرماتی ہیں۔ کہ جو شخص قانونؔ الٰہی کے توڑنے سے کِسی جرم کاارتکاب کرے۔ تو اس کے لئے یہ راہ کھلی ہے کہ وہ سچی توبہ کرکے اور اُن قوانین کی صحت اورحقّانیت پر ایمان لا کر پھر سر نو جدّ و جہد سے اِن قوانین کا پابند ہوجائے یہاں تک کہ ان کے راہ میں مَرنے سے بھی دریغ نہ کرے۔ ہاں یہ بھی لکھا ہے کہ شفاعت بھی مجرموں کے لئے فائدہ بخش ہے مگر خدا تعالیٰ کے اذن سے اور اعمال حسنہ بھی گناہوں کا تدارک کرتے ہیں اور ایمانی ترقی بھی اور نیز محبت اور عشق بھی گناہوں کے خس و خاشاک کو آگ کی طرح جلا دیتی ہے لیکن حضرات عیسائی صاحبوں کے اصول میں اوّل الدن دردی یہ ہے کہ گناہوں کی معافی کے لئے ایک بے گناہ کا مصلوب ہونا لازمی اور ضرور ی سمجھا گیاہے اب عقلمند منصف خود ہی فیصلہ کر سکتے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ ہر ایک جھگڑے اور تنازعہ کے فیصلہ کے لئے خدا تعالیٰ کا قانون قدرت موجود ہے یہ قانون قدرت صاف شہادت دے رہا ہے کہ خدا تعالیٰ کا رحم بلامبادلہ قدیم سے جاری ہے جس قدر خدا تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کر کے اور طرح طرح کی نعمتیں اِنسانوں کو بخش کر اپنا رحم ظاہر کیا ہے۔ کیا اِس سے کوئی انکار کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ ۱؂س ۱۳ ر ۱۷ ۔ یعنی اگر تم خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ہرگز گن نہیں سکتے۔ ایسا ہی اسکی رحیمیت یعنی کسی نیکی کی پاداش میں جزادینا قانون قدرت سے صاف ثابت ہو رہا ہے کیونکہ جو شخص نیک راہوں پر چلتا ہے وہ ان کا نتیجہ بھگت لیتا ہے۔ ایسا ہی اس کی مالکیت بھی قانون قدرت کے روسے ثابت ہو رہی ہے۔ جیسا کہ مَیں نے