بھی اس بات کا اقرار رکھتے ہیں کہ خدا محبت ہے۔ کہیں یہ نہیں لِکھا کہ خد ا غضب ہے یعنی عدل ہے اور غضب کا لفظ عدل کے لفظ سے اِس لئے مترادف اورؔ ہم معنی ہے کہ خدا تعالیٰ کا غضب انسانوں کے غضب کا سانہیں کہ بلا وجہ اور یا چڑنے کے طورپر ظہور میں آجائے بلکہ وہ ٹھیک ٹھیک عدل کے موقعہ پر ظہور میں آتا ہے۔ اَب یہ دوسرا سوال ہے کہ جو شخص قانون الٰہی کی خلاف ورزی کرے اِس کی نسبت کیا حکم ہے تو اِسکا یہی جواب ہو گا کہ اس قانون کی شرائط کے مطابق عمل کیا جاوے گا۔ رحم کو اس جگہ کچھ تعلق نہیں ہوگا۔ یعنی رحم بلا مبادلہ کے مسئلہ کو اِس جگہ کچھ تعلق نہیں ہوگاکیونکہ گناہ کی فلاسفی یہی ہے کہ وہ قانون الٰہی کے توڑنے سے پَیدا ہوتا ہے پس ضرورہوا کہ پہلے قانون موجود ہو مگر قانون تو کسی خاص زمانہ میں موجودہوگااس لیے خداتعالیٰ کاعدل اس کے رحم کے دوش بدوش نہیں ہوسکتا بلکہ اس وقت پیداہوتا ہے کہ جب قانون نفاذپا کر اورپھر پہنچ کر اُس کی خلاف ورزی کی جائے۔ پس واضع قانون کو یہ عام اختیار ہے کہ جس طرح چاہے اپنے قانون کی خلا ف ورزی کی سزائیں مقرر کرے اور پھر ان سزاؤں کے معا ف کرنے کیلئے اپنی مرضی کے مطابق شرائط اورحدود ٹھہرائے لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ اب یہ مسئلہ رحم بلا مبادلہ کی مزاحمت سے اور صورت میں ہو کر بالکل صاف ہے ہاں یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ جو سزائیں مقرر کی گئی ہیں یا طریق معافی کے مقرر کئے گئے ہیں یہ کس مذہب کی کتاب میں انسب و اولیٰ اور قرین بانصاف ہیں۔ اور اِس خوبی کے دیکھنے کے لئے رحم کالحاظ رکھنا بہت ضرور ی ہو گا۔ کیونکہ ابھی ہم ثابت کر چکے ہیں کہ رحم اصلی اورعام اور مقدم صفت ہے پس جس قدر کسی مذہب کا طریق سزا اور طریق معافی رحم کے قریب قریب ہو گا وہ انسب اور اولیٰ مذہب سمجھا جائے گا کیونکہ سزا دہی کے اصول اورقوانین میں حد سے زیادہ تشدّد کرنا اورایسی ایسی پابندیاں لگا دینا جو خود رحم کے برخلاف ہیں خداتعالیٰ کی صفات مقدسہ سے بہت دور ہیں سو