بیانؔ حضرت مرزا صاحب
۳۱ ۔ مئی ۱۸۹۳ ء
ڈپٹی صاحب کا کل کا سوال جو ہے کہ رحم بلا مبادلہ ہرگز جائز نہیں آج کسی قدر اس کاتفصیل سے جواب لکھا جاتا ہے۔ واضح ہو کہ رحم بلا مبادلہ میں عیسائی صاحبوں کا یہ اصول ہے کہ خدا تعالےٰ میں صفت عدل کی بھی ہے اور رحم کی بھی ۔ صفت عدل کی یہ چاہتی ہے کہ کسی گناہگار کو بغیر سزاکے نہ چھوڑا جائے۔ اور صفت رحم کی یہ چاہتی ہے کہ سزا سے بچایاجائے اورچونکہ عدل کی صفت رحم کرنے سے روکتی ہے اِس لئے رحم بلا مبادلہ جائز نہیں۔
اورمسلمانوں کا یہ اصول ہے کہ رحم کی صفت عام اور اول مرتبہ پر ہے جو صفت عدل پر سبقت رکھتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۱س۹ ر ۹۔پس اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رحمت عام اور وسیع ہے۔ اور غضب یعنی صفت عدل بعد کسی خصوصیت کے پَیدا ہوتی ہے یعنی یہ صفت قانون الٰہی سے تجاوز کرنے کے بعد اپنا حق پیدا کرتی ہے اور اِسکے لئے ضرور ہے کہ اوّل قانون الٰہی ہو۔ اور قانون الٰہی کی خلاف ورزی سے گناہ پیدا ہو اور پھر یہ صفت ظہور میں آتی ہے اور اپنا تقاضا پورا کرناچاہتی ہے۔ اورجب تک قانون نہ ہو یاقانون کی خلاف ورزی سے گناہ پیدا نہ ہو مثلًا کوئی شخص قانون الٰہی کے سمجھنے کے قابل نہ ہو ۔ جیسے بچّہ ہو یا دیوانہ ہو یا قِسم حیوانات سے ہو اُس وقت تک یہ صفت ظہور میں نہیں آتی ہاں خداتعالیٰ اپنی مالکیت کی وجہ سے جو چاہے سو کرے کیونکہ اُس کا اپنی ہر ایک مخلوق پر حق پہنچتا ہے تو اَب اِس تحقیق سے ثابت ہوا کہ عدل کو رحم کے ساتھ کچھ بھی علاقہ نہیں رحم تو اللہ تعالےٰ کی ازلی اوراوّل مرتبہ کی صفت ہے جیسا کہ حضرات عیسائی صاحبان