بلا ؔ مبادلہ یابلا وجہ ہے خیال فرمائیے کہ آپ کس قدر غلط ہیں۔ جو تین اقسام کو ایک ایک قسم سزا میں ڈالدیتے ہیں اور ما سوا اِس کے جو آپ فرماتے ہیں کہ قہر بھی بلا وجہ ہو سکتا ہے اور رحم بھی بلاوجہ تو خدائے مقدس کی خدا ئی یہ نہ ہوئی بلکہ دہریت کی اندھیر گردی ہوئی۔
پنجم۔ خدا وند مسیح نے ضرور کہا ہے کہ تم گناہوں کو معاف ہی کرتے رہو جو تمہارے برخلاف کریں اور انتقام نہ لو لیکن کلام انجیل میں یہ بھی لکھاہے کہ تم انتقام نہ لو۔ کیونکہ خداوند فرماتا ہے کہ انتقام لینا میرا کام ہے۔
اور چونکہ گناہوں کی اقسام گو کتنی ہی بیان ہوں مگر دراصل گناہ صرف خدا کے برخلاف ہوتا ہے اور وہ فرماتاہے کہ تم انتقام نہ لو اور ضرو رت ہو گی تو مَیں انتقام لوں گا۔ تو بھی اس میں تعلیم کفارہ کے بر خلاف کیا ہوا جس کا گناہ کیاگیا اسی نے ہر ایک کو منتقم اورجج اس کا نہیں بنایا۔
ششم۔ دُنیا وی عدالت نہ حقیقی عدالت کانام ہے محض نظامت کا نام ۔ کیونکہ ہرجہ کو واپس نہیں لاتی مگر جرائم کو رو بہ تنزل کرتی ہے۔ اور نہ دنیاوی شفاعت شفاعت کانام ہے بلکہ ایک مہلت طلبی کا نام ہے کیونکہ خدا وند کو اختیار ہے کہ گناہگار کو اس کے گناہوں میں یہاں ہی کاٹ ڈالے لیکن اپنے محبوبوں کی درخواست پر وہ مہلت توبہ کی بخش سکتا ہے۔ جو شفیع منصبی نہیں ہیں ان کا جواب ہم ادا کر چکے ہیں مگر بموجب اذن خدا کے مہلت بخشوانے کی شفاعت ہو سکتی ہے کہ مہلت بخشی جاوے کہ توبہ کرلے۔ فرائض ہمارے نزدیک دو ہی قسم کے اقسام ماتحت میں ہیں لیکن اصل میں ایک ہی قسم ہے جیسا کہ داؤد نبی فرماتا ہے کہ مَیں نے تیرا ہی گناہ کیا۔ پس حق العباد کا گناہ تو اسمیں آگیالیکن فطرتی گناہ شاید آپ موروثی گناہ کو فرماتے ہیں لیکن گناہ موروثی کے بارہ میں ہماری غرض یہ ہے کہ آدم کے گناہ میں گرنے کے باعث آدمزاد کاامتحان سخت تر ہوگیا کہ جسم میں تکالیف پیدا ہو ئیں اور موت ڈراؤنی ٹھہر گئی۔ اِن معنوں کر کے اِس کو آدم کا گناہ کہا جاتاہے ورنہ جیسا آپ نے حزقیل نبی کا حوالہ دیا وہی صحیح ہے کہ جو رُوح گناہ کرے گی وہی مرے گی۔ باپ دادوں کے انگور کھٹے کھائے ہوئے اولاد کے دانت کھٹے نہیں کریں گے۔