ظہور خاص کسی جگہ سے کسی طرح سے کرے۔ تو اس میں دوسری روح کے مقید ہونے کی جسم مسیح میں کونسی ایما ہے اور خالی خدا سے ہونے پر کونسی ایما ہے۔ یہ تو معقولی مسئلہ ہے محتاجؔ کتاب کا نہیں اس میں آپ کس لئے اٹکتے ہیں۔ سوم۔ وہ جوجناب لطیف ضدی کے بارہ میں کشش وزن کی فرماتے ہیں تو اس کشش سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کو جناب کثیف ٹھہراتے ہیں اور ہم یہ نہیں مانتے کہ خدا تعالیٰ کی ذات کثیف ہے لہذا اس میں وزن کیونکر ہو۔ کیونکہ وزن نام کشش کا ہے اور کشش متعلق کثافت کے ہے ۔ آپ ہمارے مسئلہ کثرت فی الوحدت کو سمجھے نہیں کیونکہ ہم ماہیت کو تقسیم نہیں کرتے گو اقانیم کو مخلوط یک دیگر بھی نہیں کرتے۔ مثال ہماری کثرت فی الوحدت کی یہ ہے کہ جیسے صفت نظیری کی بے حدی سے نکلتی ہے اورنکلنا اس کا زمان ومکان کا کچھ فرق نہیں کر تا۔ بلکہ ایک صورت میں وہ ہر دو ایک ہی رہتے ہیں اور دوسری صورت میں بہت ہوتی ایسا ہی تین اقانیم میں اقنوم اولیٰ قائم فی نفسہ ہے ۔ اور دو اقانیم مابعد کے اس ایک کے لازم و ملزوم ہیں آپ تین اقانیم کا وزن تین جگہ کس طرح تقسیم فرماتے ہیں۔ لطیف ضدی کے ساتھ وزن کا علاقہ کیا ہے۔ لطیف ضدی ہم اسکو کہتے ہیں جو عین ضد کثافت پر ہونہ اس کو جو نسبت ایک کی دوسرالطیف ہو۔ جیسے مٹی کی نسبت پانی اور پانی کی نسبت ہوا اور ہوا کی نسبت آگ یہ ساری لطیف نسبتی ہیں اور فی الواقع کثیف ہی رہتے ہیں۔ کلام الٰہی کے بیان کو آپ صرف دعویٰ فرماتے ہیں اور اسکے ثبوت کے واسطے دلیل اور طلب کرتے ہیں تو اس سے یہ مراد آپ کی معلوم ہوتی ہے کہ آپ بابت عقیدہ کلام الٰہی کے یا تو متذبذب ہیں ویا مطلقًا یقین نہیں رکھتے۔ یہ امر طے ہولے تو ہم اس کا بھی جواب دینگے۔ چھارم۔ وہ رحم جو بلامبادلہ کی دلیل پر جناب نے فرمایا ہے کہ عادت اللہ یہی ہے کہ جیسا رحم بلا مبادلہ فرماتا ہے ویسا ہی قہر بھی بلا مبادلہ فرماتاہے۔ چنانچہ وہ جانور معصوم ہو کرمارے جاتے ہیں کوئی کسی کی معیشت کے واسطے اورکوئی اور طرح پر۔ جواب سار ی شکایت اس امر میں دکھ کے اوپر ہے اور دکھ ہماری نظر میں تین قسم کے ہیں یعنی ایک وہ جو سزائیہ ہے دوسرا وہ جو مصقل سُکھ کا ہے۔ تیسرا وہ جو سامان امتحان کا ہے۔ تو جب آپ حیوانوں کے دُکھ سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں یہ قہر