ھفتمؔ ۔ جس منصوبہ کو جناب مکر وہ فرماتے ہیں کہ گناہ کوئی کرے اور سزاکوئی بھرے اس کا جواب یہ ہے کہ کیا دُنیا میں ایک شخص کا قرضہ دُوسرا اپنی دَولت سے نہیں ادا کر سکتا۔ ہاں ایک گناہگار دوسرے کے گناہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ وہ اپنے ہی گناہوں سے فارغ نہیں جیسا کہ جو خود قرضدار ہے وہ دوسرے کے قرضہ کا ضامن نہیں ہو سکتا۔ پس یہ کراہت مسیح کے کفارہ میں کہاں سے آئی جو گناہگار نہ تھا اور ذخیرہ نجات میں غنی جس کو اس نے اپنے کفارہ سے پَیداکیاتھا۔ ھشتم۔ خداوند تعالیٰ نے اس نقشہ امتحان میں ہم کو یہ صورت دکھلائی ہے کہ امتحان اعمالی جو ایک ہی خطاپر ختم ہو جاتا تھا اور مہلت توبہ کی نہ دیتا تھا وہ موقوف کیا گیا بوسیلہ کفارہ مسیح کے بجائے اِسکے امتحان ایمانی قائم کیاگیا کہ جس میں بہت سی فرصت توبہ کی مل سکتی ہے۔ پس جو خدا وند میں مقبول ہیں وہ بھی اِس دُنیا میں امتحان ایمانی سے بَری نہیں ہوئے۔ لیکن اِس کے خاتمہ کا دن نزدیک ہے اور جب وہ آئے گا تو اس وقت انسان کامل نجات کو دیکھے گا۔ فی الحال اس اطمینان ہی کو دیکھتا ہے جو صادق کے وعدہ پر کوئی منتظر تاج و تخت کا ہو۔ جناب جو فرماتے ہیں ہم کو کوئی ایسا شخص دکھلاؤ جو نجات یافتہ ہو اِس لئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نجات جناب کسی ایسی چیز کو کہتے ہیں جیسے بڑا ڈھیلاآنکھوں سے محسوس ہوتا ہے۔ مگر اطمینان کی تو یہ شکل نہیں بلکہ وہ شکل ہے کہ جیسے ایک نوکد خدا لذتِ زفاف کو بیان نہیں کر سکتی لیکن حقیقت میں اُسکو عزیز سمجھتی ہے۔ نہم۔ جن امور کی یہ بار بار کشش ہوتی ہے کہ آپ بموجب آیات انجیلی کے معجزہ دِکھلاؤ ہمارا جواب یہ ہے کہ ہم بار بار ان مقامات کی شرح حقیقی دکھلاچکے۔ اگر جناب پھر اسی سوال کا تکرار کریں اور ہماری شرح کو ناقص نہ دکھلاسکیں تو انصاف کس کے گھر کے آگے ماتم کر رہا ہے اس کو منصف طبع آپ پہچان لیں گے۔ اَب ہمارا سوال جہاں کا تہاں موجود ہے کہ رحم بلا مبادلہ ہرگز جائز نہیں۔ دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان از جانب اہل اسلام