از ؔ طرف ڈپٹی عبد اللہ آ تھم صاحب ۳۰ ؍ مئی ۱۸۹۳ ؁ء مَیں آپ کے طرز جواب پرکچھ اعتراض کرتا ہوں۔ یہ جواب فرماتے ہیں کہ رحم بلامبادلہ کا مقدمہ سراسر ثبوت الوہیت مسیح کے اوپر مدار رکھتا ہے جس کو تم نے ثابت نہیں کیا۔ میری طرف سے عرض ہے کیا ثبوت آپ مجھ سے طلب فرماتے ہیں۔ میں تو عرض کر چکا ہوں کہ ہم تو اس مسیح کو جو مخلوق اور مرئی ہے اللہ نہیں کہتے مگر مظہر اللہ کہتے ہیں اور اِس بارہ میں دو امر کا ثبوت چاہیئے یعنی ایک امکان کا دوسرا وقوعہ کا اور کہ امکان ہم دلائل عقلی سے ثابت کر تے ہیں اور وقوعہ اس کا کلام الٰہی سے۔ پھر اورکیاآپ چاہتے ہیں وہ ہم پر ظاہر ہونا چاہیئے امکان پر ہم نے یہ عرض کیاتھا کہ کیا خدا قادر نہیں کہ اس ستون میں سے جومٹی واینٹوں کا بنا ہے جواب دیوے ۔ کیا چیز مانع اسکے ایسے کرنے کا اس میں ہوسکتی ہے۔ یعنی کون صفت الٰہی اس میں کٹتی ہے۔ اس کا دکھلانا جناب کے ذمہ تھا جو اب تک ادا نہیں ہوا۔ جیسا میں نے ستون کی مثال دی۔ ویساہی مخلوق میں سے بھی ظہور اس کا ہونا ممکن ہے۔ اور وہ جو بابت وقوعہ کے ہے اسکے واسطے ہم نے کلام کی آیات دی ہیں اگر آپ کو اس کتاب سے انکار ہے کہ یہ الہامی نہیں تو یہ دیگر بات ہے اور اگر ہم نے صحیح حوالہ نہیں دیا تو اِس کا مواخذہ ہم سے فرمائیے مگر کلام کو بھی تسلیم کرنا کہ یہ الہامی ہے اور حوالوں کو صرف اتنا ہی فرماکر گرادینا کہ کچھ نہیں یہ درست نہیں۔ دوم۔ وہ جو جناب نے استفسار کیا ہے کہ وجود مسیح میں آیا دو رُوحیں تھیں یاایک۔ اور ایک وجود میں دو رُوحیں کس طرح سے رہتی ہیں۔ ہمارا جواب یہ ہے کہ مخلوق کامل مسیح میں ایک روح کامل تھی۔ لیکن خدا تعالیٰ اپنی ہستی سے بجہت اس کے بے حد ہے ہر جگہ اندر و باہر موجودہے۔ اور مظہر اللہ ہونے کے معنے یہ ہیں کہ اپنا