ظاہرہے کہ اگر اللہ تعالیٰ جلّ شانہٗ کی صفات کے بر خلاف ہے کہ کسی کا گناہ بخشا جائے تو انسان کو ایسی تعلیم کیوں ملتی ہے۔ بلکہ حضرت مسیح تو فرماتے ہیں کہ میں تجھے سات مرتبہ تک نہیں کہتا بلکہ ستر کے سات مرتبہ تک یعنی اس اندازہ تک کہ گناہوں کو بخشتا چلا جا ۔
اب دیکھئے کہ جب انسان کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ گویا تو بے انتہا مراتب تک اپنے گناہ گاروں کو بلا عوض بخشتا چلاجا اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بلا عوض ہرگز نہ بخشوں گا ۔ تو پھر یہ تعلیم کیسی ہوئی حضرت مسیح نے تو ایک جگہ فرما دیا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے اخلاق کے موافق اپنے اخلاق کرو ۔ کیونکہ وہ بدوں اور نیکوں پر اپنا سورج چاند چڑھاتا ہے اور ہر ایک خطا کار اور بے خطا کو اپنی رحمتو ں کی بارشوں سے متمتع کرتا ہے۔ پھر جبکہ یہ حال ہے تو کیونکر ممکن تھا کہ حضرت مسیح ایسی تعلیم فرماتے جو اخلاق الٰہی کے مخالف ٹھہرتی ہے یعنی اگر خدا تعالیٰ کا یہی خلق ہے کہ جب تک سزا نہ دی جائے کوئی صورت رہائی کی نہیں تو پھر معافی کیلئے دوسروں کو کیوں نصیحت کرتاہے۔ ماسوا اسکے جب ہم نظر غور سے دیکھتےؔ ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ نیکوں کی شفاعت سے بدوں کے گناہ بخشے گئے ہیں دیکھو گنتی باب۱۴ ۔ایسا ہی گنتی ۱۲ ۔ استثنا ء ۹۱۹ خروج ۸۸ پھر ماسوا اس کے ہم پوچھتے ہیں کہ آپ نے جو گناہ کی تقسیم کی ہے وہ تین قسم معلوم ہوتی ہے۔ فطرتی۔حق اللہ۔حق العباد تو پھر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ حق العباد کے تلف ہونے کا کیا سبب ہو سکتا ہے اور نیز یہ بھی آپ کو دیکھنا چاہیئے کہ فطرتی گناہ آپ کے اس قاعدہ کو توڑ رہا ہے۔ آپ کی توریت کے رو سے بہت سے مقامات ایسے ثابت ہوتے ہیں جس سے آپ کا مسئلہ رحم بلا مبادلہ باطل ٹھہرتا ہے ۔ پھر اگر آپ توریت کو حق اورمنجانب اللہ مانتے ہیں تو حضرت موسیٰ کی وہ شفاعتیں جن کے ذریعہ سے بہت مرتبہ بڑے بڑے گناہ گاروں کے گناہ بخشے گئے نکمی اور بیکار ٹھہرتی ہیں اور آپ کو معلوم رہے کہ قرآن شریف نے اس مسئلہ میں وہ انسب طریق اختیار کیا ہے جو کسی کا اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا یعنی حقوق دو قسم کے ٹھہر ادئیے ہیں۔ ایک حق اللہ اور ایک حق العباد۔ حق العباد میں یہ شرائط لازمی ٹھہرائی گئی ہیں کہ جب تک مظلوم اپنے حق کو نہیں پاتا یا حق کو نہیں چھوڑتا اس وقت تک