وہ حق قائم رہتا ہے اور حق اللہ میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جس طرح پر کسی نے شوخی اور بیباکی کر کے معصیت کا طریق اختیا رکیا ہے ۔ اسی طرح جب وہ پھر توبہ و استغفار کرتا ہے اور اپنے سچے خلوص کے ساتھ فرمانبرداروں کی جماعت میں داخل ہوجاتا ہے اور ہر ایک طور کا درد اور دکھ اٹھانے کیلئے تیار ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے گناہ کو اس کے اس اخلاص کی وجہ سے بخش دیتا ہے کہ جیسا کہ اس نے نفسانی لذات کے حاصل کرنے کے لئے گناہ کی طرف قدم اٹھایا تھا۔ اب ایسا ہی اس نے گناہ کے ترک کرنے میں طرح طرح کے دکھوں کو اپنے سر پر لے لیاہے۔ پس یہ صورت معاوضہ ہے جو اس نے اپنے پر اطاعت الٰہی میں دکھوں کو قبول کر لیا ہے اور اس کوہم رحم بلامبادلہ ہرگز نہیں کہہ سکتے ۔ کیا انسان نے کچھ بھی کام نہیں کیا کیا یوں ہی رحم ہو گیا اس نے تو سچی توبہ سے ایک کامل قربانی کو ادا کر دیا ہے اور ہر طرح کے دکھوں کو یہاں تک کہ مرنے کوبھی اپنے نفس پر گوارا کر لیا ہے اور جو سزا دوسرے طور پر اس کو ملنی تھی وہ سزا اس نے آپ ہی اپنے نفس پر وارد کر لی ہے تو پھر اس کو رحم بلا مبادلہ کہنا اگر سخت غلطی نہیں تو اور کیا ہے۔ مگر وہ رحم بلا مبادلہ جس کو ڈپٹی صاحب پیش کرتے ہیں کہ گناہ کوئی کرے اور سزا کوئی پاوے ۔ حزقیل باب ۱۸آیت ۱ ۔ پھر حزقیل ۲۰ پھر سموئیل ۲۳ مکاشفات ۱۲ ۲۰ حزقیل ۲۷۔۳۰ ۱۹ یہ تو ایک نہایت مکروہ ظلم کی قسم ہے۔ اس سے بڑھ کر دنیا میں اور کوئی ظلم نہیں ہو گا ۔ سوائے اس کے (کہ) کیا خدا تعالیٰ کو یہ طریق معانی گناہوں کا صدہا برس سوچ سوچ کر پیچھے سے یاد آیا۔ ظاہر ہے کہ انتظام الٰہی جو انسان کی فطرت سے متعلق ہے وہ پہلے ہی ہوناؔ چاہیئے ۔ جب سے انسان دنیا میں آیا گناہ کی بنیاد اسی وقت سے پڑی ۔ پھر یہ کیا ہو گیا کہ گناہ تو اسی وقت زہر پھیلانے لگا مگر خدا تعالیٰ کو چار ہزار برس گزرنے کے بعد گناہ کا علاج یا د آیا ۔ نہیں صاحب یہ سراسر بناوٹ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جیسے ابتداء سے انسان کی فطرت میں ایک ملکہ گناہ کرنے کا رکھا۔ ایسا ہی گناہ کا علاج بھی اسی طرز سے اسکی فطرت میں رکھا گیا ہے جیسے کہ وہ خود فرماتاہے۔