کہا جاتا ہے کہ کتابیں موجود ہیں کتابوں کو پڑھو ۔ لیکن انصاف کرنے کا محل ہے کہ ہر ایک صداقت کو ہر ایک پہلو سے دیکھا جاتاہے۔ ہم یہودیوں کے اقوال کو بھی دیکھیں گے ۔ آپ کے اندرونی اختلافات پر بھی نظر ڈالیں گے۔ اور اگر آپ کا یہ شوق ہے کہ کتابیں دیکھی جاویں وہ بھی دیکھی جاویںؔ گی ۔ مگر اس صورت میں کہ یہودیوں کے معنے بھی جو وہ کرتے ہیں سنے جائیں اور آپ کے معنے بھی سنے جائیں اور ان کی لغات بھی دیکھی جائیں اور آپ کی لغات بھی دیکھی جائیں پھر جو اولیٰ و انسب ہے اس کو اختیار کیاجائے اور یہودیوں سے مراد وہی یہودی ہیں جو حضرت مسیح سے پہلے صدہا برس گذر چکے ہیں۔ غرض ہر ایک پہلو کو دیکھنا طالب حق کا منصب ہوتا ہے نہ کہ ایک پہلو کو ۔ ماسوا اس کے رحم بلامبادلہ کا جو سوال کیاجاتا ہے اس کا ایک پہلو تو ابھی میں بیان کر چکا ہوں اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت کو دیکھا جائے گا کہ آیا رحم اور قہر کے نفاذ میں اس کی عادات کیونکر ظاہر ہے کہ رحم کے مقابل پر قہر ہے ۔ اگر رحم بلا مبادلہ جائز نہیں تو پھر قہر بلا مبادلہ بھی جائز نہ ہو گا۔ اب ایک نہایت مشکل اعتراض پیش آتا ہے ۔ اگر ڈپٹی صاحب اس کو حل کر دیں گے تو ڈپٹی صاحب کی اس فلاسفی سے حاضرین کو بہت فائدہ ہو گا اور قہر بلا مبادلہ کی صورت یہ ہے کہ ہم اسے دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ ہزار ہا کیڑے مکوڑے اور ہزارہا حیوانات بغیر کسی جرم اور بغیر ثبوت کسی خطا کے قتل کئے جاتے ہیں ہلاک کئے جاتے ہیں ذبح کئے جاتے ہیں یہاں تک کہ ایک قطرہ پانی میں صدہا کیڑے ہم پی جاتے ہیں اگر غور کر کے دیکھا جائے تو ہمارے تمام امور معاشرت خدا تعالیٰ کے قہر بلا مبادلہ پر چل رہے ہیں یہاں تک کہ جو ریشم کے کپڑے بھی انسان استعمال کرتا ہے اس میں اندازہ کر لینا چاہیئے کہ کس قدر جانیں تلف ہوتی ہیں۔ اور حضرات عیسائی صاحبان جو ہر روز اچھے اچھے جانوروں کا عمدہ گوشت تناول فرماتے ہیں ہمیں کچھ پتا نہیں لگتا کہ یہ کس گناہ کے عوض میں ہو رہا ہے اب جبکہ یہ ثابت شدہ صداقت ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ بلامبادلہ قہر کرتا ہے اور اس کا کچھ عوض ملتا ہمیں معلوم نہیں ہوتا تو پھر اس صورت میں بلا مبادلہ رحم کرنا اخلاقی حالت سے انسب اور اولیٰ ہے۔ حضرت مسیح ؑ بھی گناہ بخشنے کے لئے وصیت فرماتے ہیں کہ تم اپنے گناہ گار کی خطا بخشو