اور کوئی دانش مند جسم کے لحاظ سے کسی کو انسان نہیں کہہ سکتا جب تک روح انسانی اس میں داخل نہ ہو پھر اگر حضرت مسیح در حقیقت روح انسانی رکھتے تھے اور وہی روح مد ّ بر جسم تھی اور وہی روح مصلوب ہونے کے وقت بھی مصلوبی کے وقت نکلی اور ایلی ایلی کہہ کر حضرت مسیحؑ نے جان دی تو پھر روح خدا ئی کس حساب اور شمار میں آئی یہ ہمیں سمجھ میں نہیں آتا اور نہ کوئی عقلمند سمجھ سکتا ہے۔ اگر درحقیقت روح کے لحاظ سے بھی حضرت مسیح انسان تھے تو پھر خدا نہ ہوئے اور اگر روح کے لحاظ سے خدا تھے تو پھر انسان نہ ہوئے ماسوا اس کے حضرات عیسائی صاحبان کا یہ عقیدہ ہے کہ باپ بھی کامل اور بیٹا بھی کامل روح القدس بھی کامل ۔ اب جب تینوں کامل ہوئے تو ان تینوں کے ملنے سے اکمل ہونا چاہیئے کیونکہ مثلًا جب تین چیزیں تین تین سیر فرض کی جائیں تو وہ سب مل کر نو سیر ہوں گی ۔ اس اعتراض کا جواب ڈپٹی صاحب سے پہلے بھی مانگا گیا تھا مگر افسوس کہ اب تک نہیں ملا اور ظاہر ہے کہ یہ ایک سخت اعتراض ہے جس سے قطعی طور پر حضرت مسیح کی الوہیت کا بطلان ہوتا ہے ۔ انہیں اعتراضات کو قرآن شریف نے پیش کیا ہے اور اسی بناء پر میں نے یہ شرط کی تھی کہ حضرت مسیح کی الوہیت پر کوئی عقلی دلیل پیش ہونی چاہیئے مگر افسوس کہ اس شرط کا کچھ بھی لحاظ نہ ہؤا اور یہ بھی بیان کیاگیا تھا کہ آپ نے جس قدر پیشگوئیاں حضرت مسیح ؑ کی الوہیت ثابت کرنے کیلئے پیش کی ہیں وہ دعاوی ہیں دلائل نہیں ہیں اول تو ایک نامعقول امر جب تک معقول کرکے نہ دکھلایاجاوے منقولی حوالہ جات سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ مثلًا ایک گدھا جو ہماری نظر کے سامنے کھڑا ہے۔ اگر ہزار کتاب پیش کی جائے کہ انہوں نے اس کو انسان لکھ دیا ہے تو وہ کیونکر انسان بن جائے گا ۔ ماسوا اس کے وہ منقولی حوالجات بھی نرے نکمے ہیں جن کی کتابوں سے لئے جاتے ہیں وہ ان کو مانتے نہیں اور گھر میں خود پھوٹ پڑی ہوئی ہے اورحضرت مسیح ؑ فرماتے ہیں کہ یہودی موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں ان کی باتوں کو مانو ۔ افسوس ہے کہ ان کے معنے قبول نہیں کئے جاتے اور عذر کیاجاتا ہے کہ یہودی فاسق بدکار ہیں حالانکہ انجیل حکم دیتی ہے کہ ان کی باتوں کو اور ان کے معنوں کو اول درجہ پر رکھو اور ہمیں تحکم کے طور پر