اس کے جواب کا انتظار ہم جناب کی طرف سے کرتے ہیں اور یہ جواب اس کا ہونا چاہیئے کہ یہ دونوں اصول صداقت بالبداہت ہیں یا نہیں و یاکہ صداقتیں ہیں یا نہیں لیکن ہر جہ اد اہو جاتا ہے اور صفات وہ قائم رہتی ہیں اور میر اعرض کرنا اس بارہ میں اور کچھ ضرور نہیں ۔ میں امید کرتا ہوں کہ جیسے میرے یہ مختصر سوا ل ہیں ویسا ہی مختصر جوا ب ہونا چاہیئے۔ دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی ہنری مارٹن کلارک پریذیڈنٹ غلام قادر فصیح پریذیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان از جانب اہل اسلام بیان حضرت مرز ا صاحب ۳۰؍ مئی ۱۸۹۳ ؁ء بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ڈپٹی صاحب نے رحم بلا مبادلہ کا جو سوا ل کیا ہے حقیقت میں اس کی بنیاد حضرت مسیح کی الوہیت ماننے پر رکھی گئی ہے اس لئے صفائی بیان کے لئے بہت ضروری ہے کہ پہلے برعایت اختصار اس کا کچھ ذکر کیا جائے ۔کیونکہ اگر حضرت مسیح کی الوہیت ثابت ہو جائے تو پھر اس لمبے جھگڑے کی کچھ ضرورت نہیں اور اگر دلائل قطعیہ سے صرف انسان ہونا ان کا ثابت ہو اور الوہیت کا بطلان ہو تو پھر جب تک ڈپٹی صاحب موصوف الوہیت کو ثابت نہ کریں تب تک داب مناظرہ سے بعید ہو گا کہ اور طرف رخ کر سکیں ڈپٹی صاحب موصوف اپنے بیانات سابقہ میں حضرت مسیح کی الوہیت ثابت کرنے کیلئے فرماتے ہیں کہ ؔ اور انسانوں کی تو ایک روح ہوتی ہے مگر حضرت مسیح کی دو روحیں تھیں ایک انسان کی اور ایک خدا تعالیٰ کی اور گویا حضرت مسیح کے جسم کی دو روحیں مدبر تھیں مگر یہ امر سمجھ میں نہیں آسکتا ایک جسم کے متعلق دو روحیں کیونکر ہو سکتی ہیں اور اگر صرف خدا تعالیٰ کی روح تھی تو پھر حضرت مسیحؑ انسان بلکہ انسان کامل کن معنوں سے کہلا سکتے ہیں کیا صرف جسم کے لحاظ سے انسان کہلاتے ہیں ۔ اور میں بیان کر چکا ہوں کہ جسم تو معرض تحلل میں ہے چند سال میں اور ہی جسم ہوجاتا ہے