نے ۸ بجے ۵۳ منٹ پر جواب لکھنا شروع کیا اور ۹ بجے ۵۰ منٹ پر ختم کیااور مقابلہ کرکے بلند آواز سے سنایا گیا۔بعد ازاں تحریروں پر میر مجلس صاحبان کے دستخط کئے گئے اورچونکہ مرزاصاحب کے جواب کیلئے پورا وقت باقی نہ تھا۔اس لئے جلسہ برخواست ہوا۔ فقط۔ (دستخط بحروف انگریزی) (دستخط بحروف انگریزی ) ہنری مارٹن کلارک پریذیڈنٹ غلام قادر فصیح پریذیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان از جانب اہلِ اسلام سوال ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب ۳۰ ؍مئی ۱۸۹۳ ؁ء میرا پہلا سوال رحم بلا مبادلہ پرہے جس کے معنے یہ ہیں کہ رحم ہو اور تقاضا عدل کا لحاظ نہ ہو ۔اس کے لئے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا صفات عدل و صداقت کی غیر مقید الظہور بھی ہو سکتی ہیںیعنی ان پر یہ قید نہ رہی کہ وہ ظہور نہ کریں جیسا کہ عدل ہوا یا نہ ہوا۔ صداقت ہوئی یا نہ ہوئی۔ اعتراض اس میںیہ ہے کہ اگر ایسا ہووے تو محافظ قدوسی الٰہیؔ کا کون ہوسکتا ہے اور رحم اور خوبی مقید الظہور بھی کیا ہو سکتے ہیں اور اس میں اعتراض یہ ہے کہ اگر ہو سکتے ہیں توکیا وہ قرضہ دادنی کی صورت نہ پکڑیں گے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ ہر چہ گناہ جب تک باقی رہے تو صورت رہائی گناہ گار کی کون سی ہے اب جبکہ قرآن میں تین راہ نجات رکھے ہیں یعنی ایک یہ کہ گناہ کبائر سے اگر بچو گے تو صغائر رحم سے معاف ہو جائیں گے ۔ دوسرے یہ کہ اگر وزن افعال شنیعہ کا اعمال حسنہ پر نہ بڑھے گا تو رحم کے مستحق ہو جاؤ گے۔ تیسرے یہ کہ رحم کے مقابلہ میں عدل اپنے تقاضا سے دست بردار ہوجاتا ہے یعنی رحم غالب آتا ہے عدل کے اوپر۔ دو صورتیں اولین میں یہ اصول ڈالا گیا ہے کہ ادائے جزکا واسطے کل کے حاوی ہے تیسرے اصول میں یہ دکھلایا گیا ہے کہ عدل مقید الظہور نہیں بلکہ رحم مقید الظہور ہے۔ ان دونوں اصولوں میں جو اوپر بیان ہوئے ہیں بداہت کے برخلاف کچھ اس میں بیان ہے یا نہیں کیونکہ مبادلہ عدل کا کچھ نہ ہؤااور یہ رحم بلامبادلہ ہے جس نے دو صفات الٰہی کو ناقص کر دیا یعنی عدالت اور صداقت کو۔