ہفتہ میں وقت ہے کہ مسیحی اہل اسلام سے دین محمدی کے حق میں سوال کریں اورنہ یہ کہ محمدی صاحب مسیحوں سے دین عیسوی کے حق میں جواب طلب کریں ۔ ثانیًا فی الحال عبد اللہ آتھم صاحب کیطرف سے سوال مسئلہ رحم بلا مبادلہ در پیش ہے اور مرزاصاحب جواب طلب کرتے ہیں دربارہ الوہیت مسیح کے۔ میرمجلس صاحب اسلام کی یہ رائے تھی کہ خلاف شرائط ہرگز نہیں ہے بلکہ عین مطابق شرائط ہے اور ساتھ ہی مرزاصاحب نے بیان فرمایا کہ جواب ہرگز خلاف شرائط نہیں کیونکہ سوال رحم بلامبادلہ کی بنا الوہیت مسیح ہے۔اور ہم مسئلہ رحم بلامبادلہ کاؔ پور ا رد اس حالت میں کر سکتے ہیں کہ جب پہلے اس بنا کا استیصال کیاجاوے ۔بنا کو کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ بے تعلق ہے بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ رحم بلا مبادلہ بنائے فاسد بر فاسد ہے۔ عیسائی جماعت تو مرزاصاحب کے مضمون کو خلاف شرائط قرار دینے پر زور دیتی رہی اور اسلامیہ جماعت اس مضمون کو مطابق شرائط قرار دیتی رہی پادری عماد الدین صاحب کی یہ رائے تھی اور انہوں نے کھڑے ہوکر صا ف لفظوں میں کہہ دیا کہ میر مجلسوں کا منصب نہیں کہ مباحثین کو جواب دینے سے روکیں مگر میرمجلس عیسائی صاحبان کے سوال کرنے پر انہوں نے بھی یہی کہا کہ مضمون مرزاصاحب کا خلاف شرط ہے اور مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے بھی کہا کہ کسی قدر خلاف شرط تو ہے تاہم در گذر کرنا چاہیئے۔ میر مجلس اہل اسلام نے کہا یہ مضمون ہرگز خلاف شرط نہیں اس لئے ہم آپ کا در گذر نہیں چاہتے۔ ایک عرصہ تک اس امر پر تنازعہ ہوتا رہا۔ اسی عرصہ میں ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب نے کہا کہ اگر میرے چیئر مین صاحب مجھے مرزاصاحب کے لفظ لفظ کا جواب دینے دیں گے تو میں دوں گا ورنہ میں نہیں دیتا۔ مگر میر مجلس صاحب اہلِ اسلام نے ڈپٹی صاحب کو کہا کہ آپ کو جواب لکھنے کیلئے میر مجلسوں سے ہدایت لینے کی کچھ ضرورت نہیں۔ آپ کو اختیار ہے کہ جس طرح چاہیں جواب دیں۔ لیکن میر مجلس عیسائی صاحبان نے ڈپٹی صاحب کو روکا اور کہا میں اجازت نہیں دیتا۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو میں میر مجلسی سے استعفادے دوں گاکیونکہ یہ خلاف شرط ہے پھر تھوڑی دیر کے لئے تنازعہ ہوتا رہا اور آخر کار یہ قرار پایا کہ آئندہ کے لئے مباحثین میں سے کسی کو جواب دینے سے روکا نہ جائے انہیں اختیار ہے کہ جیسا چاہیں جواب دیں ۔ بعد ازاں ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب