دوسرؔ ا حصہ روئیداد جلسہ ۳۰۔ مئی ۱۸۹۳ ؁ء آج پھر جلسہ منعقد ہوا ۔ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب آج اپنے اصلی عہدہ میر مجلسی پر واپس آگئے۔ اور مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے مباحثہ شروع کیا۔ ۶ بجے ۹ منٹ پر مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے سوال لکھانا شروع کیا اور ۷ بجے ۲۰ منٹ پر ختم کیا اور بلند آواز سے سنایا گیامرزا صاحب نے ۶ بجے ۲۷منٹ پر جواب لکھانا شروع کیا اور ۷ بجے ۲۷ منٹ پر تمام کیا۔ مرزاصاحب کے جواب لکھانے کے عرصہ میں میر مجلس عیسائی صاحبان نے بدوں میر مجلس اہل اسلام کے ساتھ اتفاق کرنے کے انھیں روکنے کی کوشش کی اور اپنے کاتبوں کو حکم دیا کہ وہ مضمون لکھنا بند کردیں مگر میر مجلس اہلِ اسلام کی اجازت سے مرزا صاحب برابر مضمون لکھاتے رہے اور انکے کاتب لکھتے رہے۔ میرمجلس عیسائی صاحبان کی یہ غرض تھی کہ مرزاصاحب مضمون کو بند کر یں اور میر مجلس عیسائی صاحبان ایک تحریک پیش کریں کیونکہ ان کی رائے میں مرزا صاحب خلاف شرط مضمون لکھاتے رہے تھے لیکن جب ان کی رائے میں مرزاصاحب شرط کے موافق مضمون لکھانے لگے تو انہوں نے اپنے کاتبوں کو مضمون لکھنے کا حکم دے دیا میر مجلس صاحب اہل اسلام کی یہ رائے تھی کہ جب تک مرزاصاحب مضمون ختم نہ کر لیں کوئی امر انہیں روکنے کی غرض سے پیش نہ کیاجائے کیونکہ انکی رائے میں کوئی امر مرزاصاحب سے خلاف شرائط ظہور میں نہیں آرہاتھا۔ چنانچہ مرزاصاحب برابر مضمون لکھاتے رہے اور اپنے وقت کے پورے ہونے پر ختم کیا اور مقابلہ کے وقت عیسائی کاتبوں نے اس حصہ مضمون کو جو وہ اپنے میر مجلس کے حکم کے بموجب چھوڑ گئے تھے بموجب ارشاد اپنے میر مجلس کے پھر لکھ لیا۔ اَب یہ امر پیش ہوا کہ مرزاصاحب نے جو جواب لکھایا ہے اس کے متعلق میر مجلس عیسائی صاحبان اور عیسائی جماعت کی یہ رائے ہے کہ وہ خلاف شرائط ہے کیونکہ اوّلًا اِس