آپ فرماتے ہیں کہ اس جنگ میں مجھے فتح ہے ضروری فتح ہے۔ جناب امتیاز کر سکتے ہیں کہ صورت مذکورہ بالافتح کامل کی ہے یا معاملہ دیگر کی اور یہ جناب کی غلطی ہے فتح اور شکست کالحاظ ہرگز نہیں چاہیئے برعکس اسکے یہ کہ ہاں شکست ہو تو ہو۔ لیکن یا اللہ تیری راستی ظاہر کی جائے افسوس جناب میں وہ مزاج دیکھی نہ گئی۔ صاحب من عیسوی دین انیس سو برس سے جہان میں ہے اور ایک ایسا سندان ہے کہ اس پر بہت ہی مارتول گھس چکے ہیں اور اخیر تک گھستے رہیں گے۔ کیا انیس سو برس کی بات یہاں او رانھیں دنوں میں پلٹنے والی تھی جولوگ دین مسیح کے مخالف ہیں ان کو دیکھ کر مجھے ایک قصہ یونانی یاد آتاہے ایک سانپ کسی لوہار کے گھر میں جاگھسا زمین پر ریتی پڑی تھی زہر بھرا ہوا سانپ اس کے کاٹنے لگا۔ ریتی نے کہا کاٹ لے جہاں تک تیری مرضی ہے تیرے ہی دانت گھستے ہیں۔ صا ؔ حبِ من کوششیں توآپ نے سب کیں پر دلیل عقلی کا مقابلہ نہ نقلی جواب بن پڑا اورجس الہام و کرامت پر آپ کو ناز تھا وہ بھی خام اورلاحاصل ٹھہرایاگیا۔ کوششیں بہت لیکن مباحثہ کے اس حصہ کا نتیجہ معلوم اور ہر ایک منصف مزاج پر ظاہر ۔ مرزائے من آپ تو بلند آواز سے فتح پکارتے رہے لیکن یہ فتح کسی اور پر شگفتہ نہ ہوئی۔ جناب من اس جنگ میں او رہر جنگ میں امروز تا ابد شان و شوکت حشمت و جلال قدرت اختیار اور فتح المسیح تا ابدخدائے مبارک کی ہے۔ آمین۔ دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی احسان اللہ قائم مقام ہنری مارٹن کلارک غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ پریزیڈنٹ از جانب عیسائی صاحبان از جانب اہل اسلام