اس کابہت غور نہیں کیا۔ گیارہ۔ جناب کا صاحب کرامات ہونے کا دعویٰ نہایت ہی واضح طور پر غلط ثابت کیاگیا۔ جناب الزامی جواب دے کر پہلو تہی کر گئے۔ یہ ہفتہ گذشتہ کی کارروائیاں ہیں فرمائیے ہماری کونسی دلیل توڑی گئی۔ ہاں یک شوشہ یک نقطہ بھر اس میں فرق آیا؟۔جناب تو اپنی تاویلوں میں لگے رہے اور ہماری باتوں پر آپ نے توجہ نہ فرمائی۔ اب پھر اس مباحثہ کے پہلے حصہ کا آخری وقت ہے۔ میں خدا کا واسطہ دے کے عرض کرتا ہوں۔ بروئے کلام الٰہی خدا جو اگلے زمانوں میں نبیوں کے وسیلہ بولابالآخر اپنے بیٹے کے وسیلہ سے دین آسمانی اور راہ نجات اور گناہوں کی بخشش ہمیں عنایت کر چکا ہے۔ اور ہر ایک کو چاہیئے کہ تعصب کو دور کر کے خدا کی ر ضامندی کو اپناشا ملؔ کرے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ بے شک المسیح ابن وحید اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اور کلمہ مجسمہ اللہ کا ہے اور آخری دن کل آدمیوں کا انصاف کرنے والابھی ہوگا۔ مباہلہ کے حق میں مختصر عرض ہے کہ *** دینا یا چاہنا ہمارے خدا کی تعلیم نہیں وہ اپنی کسی مخلوق سے عداوت نہیں رکھتا اور مینہہ اور روشنی اپنے راستوں اور ناراستوں کو برابر بخشتاہے۔ جس مذہب میں لعنتیں جائز ہوں انکے پَیروؤں کو اختیار ہے مانیں او رمانگیں۔ لیکن ہم شاہ سلامتی کے فرزندہیں اور جیسا ہم اپنے لئے دعائے خیر اورر حمت اور بخشش کے طالب ہیں ویسا ہی بعوض *** کے ہم آپ صاحبوں کیلئے بھی خواہاں برکت کے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی بے حد رحمت سے صراط مستقیم آپ کو عطاکرے اپنے امن اور ایمان میں لاوے۔ تاکہ جب اس جہان فانی سے ملک جاودانی کو آپ گزرکریں تو عاقبت بخیر ہووے ایک آخری عرض ہے جناب مرزاصاحب آپ حد سے قدم بڑھا کر چڑھ آئے ہیں۔ گستاخی معاف مَیں دل کی صفائی سے کہتا ہوں اور بروئے الہام نہ معلوم ازکجایافتہ