افسوس ہے کہ ہم آپ پر کسی طرح خوش نہ ہوئے۔ عقلی دلیل آپ نے مانگی بندہ نے پیش کر دی۔ نقلی جناب نے فرمائی حاضر کی گئی الہام پر آمادہ ہوئے سو بھی منظور اس موقعہ پر مجھ کو انجیل شریف کی ایک بات یاد آتی ہے متی کے ۱۶۔۱۷۔۱۹ میں ہے آخر الامر آپ کی خدمت میں یہ عرض ہے کہ اول خداکے ابن وحید کا رسالت لے کر دنیا میں آنا دلیل استقرائی سے مستثنیٰ ہے جیسے کہ آدم و حوا کی پیدائش۔ جناب نے اس کا کیاجواب فرمایا ہیچ دوم الوہیت کے دعوےٰ اور اثبات بائیبل شریف سے معہ مفصل آیات کے پیش کئے گئے عقل سے امکان اور کلام الٰہی سے وقوع ثابت کیا ؔ گیا۔جناب نے کیا جواب دیا ہیچ۔ یوحنا کے دسویں باب پر آپ نے بار ہا زور بے جالگایا معقول دلیل دیکھیں تو پتہ ندارد پرانے عہد نامہ میں سے مسیح کے حق میں پیشگوئیاں اور نئے عہد نامہ میں ان کی تکمیل جناب کی خدمت میں پیش کی گئی جواب ہیچ پانچ پرانے عہد نامہ کے ایسے فقروں سے جیسا کہ ہم میں سے ایک کی مانند ہمتا۔ یہواصد قنو وغیرہ وغیرہ الوہیت کا استدلال کیاگیا جناب کاجواب ہیچ۔ بڑی پختہ دلائل سے مسیح کا کامل انسان و کامل خدا ہوناو مظہر اللہ ہونا پیش کیاگیا۔جواب ہیچ۔ ساتواں وہ جو آیات جناب نے پیش کی تھیں قیامت کے روز وغیرہ کے بارے میں انکے حق میں خوب گوش گذاری ہوئی جناب نے کوئی جواب نہ فرمایا۔ آٹھواں۔ جناب قرآن سے کئی حوالجات دیتے ہیں اور ان عاجزوں کے لئے وہ فضول ہیں کیونکہ ہم اس کو کتاب مستند نہیں سمجھتے۔ نہم۔ مرقس کی ۱۶ پر جناب نے بہت کچھ تقریر فرمائی اور معجزوں کے حق میں ہمیں قائل کرنا چاہا۔ لہٰذا اس کا بھی جواب ہوا اور خوب ہی ہوا۔ جناب نے کیا جواب دیا ہیچ۔ دس۔ نجات اور ذاتی الہام بے محل اور خلاف شرطوں کے تھا اس لئے ہم نے