کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ اور جب آپ نے مسئلہ پیش کیا کہ جب مسیح نے پوچھا کہ مسیح کس کا بیٹا ہے اور داؤد کیوں اس کو خداوند کہتاہے۔تو چپ اور لاجواب ہو گئے۔ کوئی جواب نہ دے سکا۔ صاحب من عقل کو قائل کرنا تو کچھ مشکل نہیں لیکن دل کی ضد کو دفع کرنا اللہ کا کام ہے۔ پھر جناب کی تقریر تھی کہ کراماتیں اسلام کے ساتھ ہیں ہمیں دیکھنے سے کوئی گریز نہیں۔ ساتھ یہ بھی بتائیے بالفرض اگر کوئی یا کئی کرامت وارد بھی ہوں تو ہم کس طرح جانیں کہ یہ منجانب اللہ ہیں استثنا کے ۱،۲جناب نے ہی سنائے کہ بیشک تمہارے پرکھنے کے لئے جھوٹے نبی بھی آجائیں گے او ر کرامت پوری کریں گے۔ نیز مرقس کا ۲۲ سُنیے گا۔ گلیتوں ۱۸ سو جناب من نہ فقط کرامت کی ضرورت ہے بلکہؔ اس بات کی کہ ان نشانوں کو کیوں کر منجانب اللہ جانیں اورنہایت ادب سے عرض ہے کہ آپ کی کرامت سے مَیں دل شکستہ ہوںآپ فرما چکے ہیں کہ کرامت اور معجزہ میں فرق ہے نہیں جانتا کہ کیا۔ پھر آپ نے یہ فرمایا کہ ہم نہیں جانتے کہ وہ کس قسم کانشان دکھلائے گا۔ اور پھر معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کس طور کا نشان دکھلائے گا۔جناب صاحب اس میں تحدی ما قبل معجزہ اور کرامات سے صاف گریز ہے۔ حالانکہ آپ اپنے رسالہ حجۃ الاسلام کے ۱۴۔ ۱۵ ۔ ۱۶۔۱۷۔صفحہ میں اس بات کو تسلیم کر چکے تھے۔ قصہ کوتاہ مرزا صاحب کیاہی مبارک موقعہ پیش آیا تھا کہ آپ اپنے اس دعویٰ کو جس کی نسبت خم ٹھوک کر کئی روز سے دعویٰ کرتے ہیں پایہ ثبوت تک پہنچاتے۔ ہزار افسوس کہ آپ نے ایسے موقعہ کو ہاتھ سے جانے دیا اور اپنی لغو تاویلات کو لامعنی اور بات الزامی سے اس موقعہ کو ٹال دیا۔ آپ کی اس پہلو تہی سے اس عاجز کی عقل ناقص میں یہ آتا ہے کہ آپ کا یہ دعویٰ سامان ہیں جن سے آپ اپنے مقلدوں کو خوش کرتے ہوتے ہیں از راہ خاوندی کے عیسائیوں کے رو برو انکاذکر پھر نہ کرنا۔اور ناحق زک اٹھانی پڑتی ہے جناب من ہم تو آپ کے علم اور روشن ضمیری کا چرچا بہت ہی سنتے رہے ہیں اور ہم کو آپ سے بہت امید تھی۔ لیکن افسوس آپ نے وہی بحثیں اور وہی دلائل اور وہی باتیں پیش کیں ۔ جو کہ قریب چالیس سال سے اِس ملک کے بازاروں میں چکر کھارہی ہیں۔ مرزاصاحب