میری عقل تو گواہی دیتی ہے کہ ذات پاک کو اس سے بڑھ کر ہونا چاہیئے آپ کی وحدانیت میں کونسامسئلہ سمجھ سے باہر ہے گویا محدود نے غیر محدود کو گھیر لیا ہے۔ لیکن کثرت فی الوحدت ایک ایسا مسئلہ ہے کہ نہ اِسکے سمجھنے والا پیدا ہوا نہ ہو گا۔ کیا صاحب جانا جا سکتا ہے کہ انسانی عقل اللہ تعالیٰ کو سمجھے ۔ توبہ توبہ۔ ذات الٰہی ایک ایسی شے ہے کہ نہ عقل سے ثابت کی جاسکتی ہے اور نہ عقل سے اس کی تردید کی جاسکتی ہے۔ معاملہ انسان کی عقل سے لاکھ ہادرجہ بڑھ کر ہے اور اس کا فیصلہ صاف اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے۔ خدا کی بات خدا ہی جانےؔ اور میرا اور آپ کا حق مرزاصاحب نہ دلائل عقلی کے دوڑانے پر ہے لیکن تسلیم کرنا ہے۔ اور صحیح تعلیم اللہ تعالیٰ کی کتابوں کی یہی ہے تین اقنوم اور ایک خدا واحد تا ابد مبارک ہے۔ مسیح خداوند کے حق میں نبی گواہی دیتے رہے نمونوں سے اللہ تعالیٰ ظاہر کرتا رہا۔ قربانیوں میں حلال وحرام میں ختنہ میں ہیکل میں اور پھر ظاہر کرتا رہا کہ مَیں حق تعالیٰ خود تمہارا نجات دہندہ ہوں ۔ اور وقت پر کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا جنے گی اور نام اس کا تم نے رکھنا عمانوئیل یعنی خدا ہمارے ساتھ وقت پر آپ آئے پَیدا ہوئے۔
آگے سلسلہ چلتا ہے فرشتوں کی گواہی کا ۔ حواریوں کی گواہی کا۔ اپنے دعووں کا ۔ اپنی کرامت ومعجزوں کا۔ ہاں خدا تعالےٰ کا خود یحيٰ بپ ٹسما دینے والے کے ہاتھ سے بپ ٹسما پاکر آپ پانی سے نکلتے ہیں اور رُوح القدس کبوتر کی طرح ان پر آتی ہے اورخدا تعالیٰ آسمان بلند آواز سے فرماتا ہے یہ میرا بیٹا ہے جس سے مَیں خوش ہوں دیکھئے باپ بیٹا روح القدس موجود کیونکہ یہ تینوں ایک ہیں۔
خیر میں زیادہ طول دینا نہیں چاہتا دشمنوں کی گواہی بھی موجودہے شیطانوں کی گواہی موجود ہے جو چلا چلا کر کہہ رہے تھے کہ تو خدا کا قدوس ہے۔ رومیوں کی گواہی موجود ہے۔ پلاٹوس کی گواہی موجود ہے۔ جناب انجیل شریف میں آپ کے لئے سب گواہیاں موجود ہیں اور یہودی بھی سارے بے ایمان نہ تھے آپ کے فرمانے کے مطابق حواری بھی یہودی تھے ایک ہی وعظ سے تین ہزار عیسائی ہوئے یک لخت۔
اگر چہ قوم مردود ہے قوم کا ہر ایک فرد مردودنہیں اور اب بھی ہزارہا لاکھ ہا یہودی مسیح خداوند