موجب پیشگوئی المسیح کے ۔ دوئم ۔ پھر آپ نے یونی ٹیرین کی بابت پیش کیا ۔ جناب من یہ عیسائیوں کے کسی فرقہ میں سے کوئی فرقہ نہیں ۔ سارے جہان کی حماقت اور کفر کا جواب آپ مجھ سے کیوں مانگتے ہیں اور رومن کیتھلک لوگ اپنے دل کے کفر سے مریم کو خدا کی ماں قرار دیتے ہیں اور ادہر یونی ٹیرین حماقت سے اور طرحؔ پر پورا کرتے ہیں میراان میں کیا واسطہ ہے ۔ کلام میرے ہاتھ میں ہے عبارت اسکی موجود ہے غلطی پر ہوں تو مجھے قائل کیجئے ۔ ورنہ ان تاریک فہموں کی آپ کیا نظیر دیتے ہیں ۔ ہمارا ایمان مسیح پر‘ فرقوں پر نہیں ۔ اس طرح کے اگر میں الزامی جواب دینے چاہوں تو اسلام پر کتنے فتوراس وقت پیش کر سکتا ہوں ۔ جناب من اپنے گھر کی حالت دیکھ کر تکلیف فرمایئے اور نہ کسی انسان کے ماننے اور نہ ماننے پر مدار رکھے لیکن کتاب اللہ پر ۔ جناب نے ایسی دلیل طلب کی ہے جس میں کسی کا شک نہ ہو ۔ صاف اقرار کرتا ہوں کہ میں نے کہ میں عاجز ہوں میں کیا بلکہ خدا بھی عاجز ہے ۔ اسکے وجود پاک سے بڑھ کرکوئی بات دنیا میں روشن ہے تو بھی آپکو ہزار احمق نہ ملیں گے جو کہیں گے کہ خدا کوئی چیز نہیں ۔ جب جناب باری کی ذات پاک میں آپ حرف لاتے ہیں اور اس معبود حق کی نسبت شک کرتے ہیں جس کے جلال سے سارا جہاں معمور ہے تو کونسی دلیل پیش کریں جسمیں اگلا حرف نہ لاوے ۔ آگے جناب کا یہ فرمانا تھا کہ مسیحی دین اگر بے پھل ہے تو پھر یہ کیوں حق ہے ۔ صاحب من یہ بے پھل نہیں اپنے موقعہ پر یعنی اسی ہفتہ میں آپ کی خدمت میں پھل پیش کئے جاویں گے ۔ لیکن یہاں آپ کے ساتھ میرا سخت تنازعہ ہے آپ نے مجھے کیوں منافق بنایا ۔ ریاکار ٹھہرایا کہ جو میں زبان سے کہتا ہوں وہ دل سے نہیں کہ آپ نے ایسا الزام مجھے لگا دیا ۔ پیغمبری کے دعوے تو میں آپ کےُ سنتا رہا لیکن یہ تو دعویٰ الٰہی ہے کہ آپ دلوں کے جانچنے والے ہیں ۔ آخری عرض یہ ہے کہ مناسب ہے کہ خالق کی ذات شریف مخلوق کی سمجھ میں نہ آوے۔ خدا تعالیٰ جو ہے ذات ہی ذات ہے اور اگر اس کی ذات پاک کو ہم سمجھ لیں تو پرے کیا رہا۔ ہم اسکے مساوی نہ ہوگئے بے شک ہو گئے ۔ اسی لئے میں محمدی وحدانیت کا قائل نہیں ہوسکتا تو بچہ بھی سمجھ سکتا ہے اور