بیان ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک جناب مرزا صاحب نے اپنے جواب میں زیادہ طول اہل یہود پر دی ہے اور ان کو ہم نہیں جانتےؔ کہ کس وجہ سے ہمارے اور اپنے درمیان منصف ٹھہرالیا ہے ۔ جناب من آپ کونسی تاریکی کے فرزندوں کا حوالہ دیتے ہیں اگر اُن کے نہ ماننے پر بات موقوف ہے تو آپ کے حضرت صاحب کی شان میں بھی بڑا فرق آتا ہے ۔ کیونکہ اُنکی مخالفت پر بھی ہمیشہ کمر باندھ کے منکر ہی رہے ۔ جناب من دار مدار کسی انسانی فیصلہ پر نہیں ہے ۔ کتابیں موجود ہیں زبان کوئی سمجھ سے باہر نہیں ہے۔عقل فقط خدا تعالیٰ نے اہل یہود کو عنایت نہیں کی تھی ۔ عبارت میں غلطی ہے بتا دیجئے گا ۔ معنوں میں ہے تو معنے صحیح ہمیں عنایت کیجئے ۔ اور یہودیوں کی کم بختی ہمارے سر پر کیوں تھوپتے ہیں آپ تو فرماتے ہیں کہ یہ قوم پارسا اور خدا پرست تھی توریت شریف اور انبیاء کے صحیفوں کو ملاحظہ کیجئے تو ان کا صحیح حال آپ پر روشن ہوگا ۔ دیکھئے یسعیاہ نبی کی کتاب کے ۳۶۵ میں خدا تعالیٰ کیافرماتا ہے ایسے گروہ کی طرف جو سدا میرے مُنہ کھجا کر مجھے غصّہ دلاتی تھی اور نبیوں کو دیکھئے کہتے ہیں گردن کش سنگدل حد سے زیادہ نبیوں کے قاتل اپنے خدا سے مُنہ پھیرنے والے ۔ یہ انکی صفات ہیں کلام اللہ میں جسے آپ پاک قوم سمجھ رہے ہیں بلکہ یہاں تک اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ گدھا اپنے مالک اور بیل اپنے چرنے کو جانتا ہے پر میری قوم مجھے نہیں جانتی جن کو اللہ تعالیٰ گدھے اور بیل سے بڑھ کر حماقت میں بناتا ہے ۔ آپ ان سے عدالت چاہتے ہیں ۔ مرزا صاحب یہ آپ سے ہرگز نہ ہوگا ۔ جناب من انھیں کی سنگدلی کی سزا میں خدا تعالیٰ نے اُنکے دِلوں کو تاریک کر دیا کہ وہ نہ سمجھیں ۔ یسعیاہ ۶۱۰ اور یہ *** خداوند یسوع مسیح کے وقت اُنکے سر پر تھی اور تا حال ہے ۔ متی ۱۳ واعمال ۲۸۲۷دوسرے قرنطیون کا ۱۵،۳۱۶ ان آیات کے ملاحظہ سے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آپ نے منصفی کن پر ڈالی ہاں انکی بے ایمانی سے شہر اُن کا برباد اپنے ملک سے جلا وطن سارے جہان میں پراگندہ ضرب المثل اور انگشت نما ہو کے یہ آج تک پھرتے ہیں