ہونے کے اُن سزاؤں کو تصور میں لاتاہے جو بے دینوں کو ملیں گی تو خود اس کا بدن کانپ اُٹھتا ہے اور اپنے تئیں اس بات کابھوکا اور پیاسا پاتا ہے کہ اگر کوئی نشان ہو تو اس سے تسلی پاوے اور اس کے سہارے کیلئے وہ اسکی دلیل ٹھہر جاوے تو پھر میں تعجب کرتا ہوں کہ یہ درخت عیسائی مذہب کا کیوںؔ کر بغیر پھلوں کے قرار دیا جاتا ہے اور کیوں تسلی کی راہ اس شخص کے مقابل پر پیش نہیں کی جاتی جو پیش کر رہا ہے اگر اللہ تعالیٰ کی عادت نشان دکھلانا نہیں ہے تو اِس دین اسلام کی تائید کیلئے کیوں نشان دکھلاتا ہے اس لئے کیا کبھی ممکن ہے کہ ظلمت نور پر غالب آجاوے ۔ آپ یہ سب باتیں جانے دیں میں خوب سمجھتا ہوں کہ آپکا دل ہرگز ہرگز آپ کے ان بیانات کے موافق نہ ہوگا بہتر تو یہ ہے کہ اس قصہ کے پاک کرنے کے لئے میرے ساتھ آپ کا ایک معاہدہ تحریری ہو جائے اگر میں اُن شرائط کے مطابق جو اس معاہدہ میں کہوں گا کوئی نشان اللہ جلّ شانہٗ کی مرضی کے موافق پیش نہ کر سکوں تو جس قسم کی سزا آپ چاہیں اس کے بھُگتنے کیلئے تیار ہوں بلکہ سزائے موت کیلئے بھی تیار ہوں لیکن اگر یہ ثابت ہو جاوے تو آپ کا فرض ہوگا کہ اللہ جلّ شانہٗسے ڈر کر دین اسلام کو اختیار کریں ڈاکٹر صاحب یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ عیسائی مذہب توسچاہو اور تائید دین اسلام کی ہو آپ بجائے خود حضرت مسیح سے دُعائیں کرتے رہیں کہ وہ اس شخص کو ذلیل اور لاجواب کرے اور میں اپنے خُدا سے دُعا کرونگا پھر جو سچا خدا ہے غالب آجائے گا۔ اس سے بہتر اور کونسی تصفیہ کی صورت ہوگی ۔ آپ کے دعاوی بلا دلیل کو کون تسلیم کرسکتا ہے کیوں آپ ان کوبار بار پیش کرتے ہیں ۔ کیا آپ کی قوم نے بالاتفاق اس کو قبول کرلیا ہے آپ براہ مہربانی سیدھے راہ پر آکر وہ طریق اختیار کریں جس سے حق وباطل میں فیصلہ ہو جاوے ۔ دستخط بحروف انگریزی دستخط بحروف انگریزی احسان اللہ غلام قادر فصیح پریزیڈنٹ از جانب اہل اسلام قائم مقام ہنری مارٹن کلارک پریزیڈنٹ ازجانب عیسائی صاحبان