صحت ثابت نہ ادعاء حضرت مسیح ثابت اور نہ ان کے خاص معنوں پر اتفاق ثابت تو پھر کیونکر آپؔ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دلائل ہیں اور یہ بھی آپ کو یاد رہے کہ آپکا یہ فرمانا کہ نشان اسی وقت تک ضروری تھے جو حواریوں کا زمانہ تھا اور حواری اس کے مخاطب تھے یہ اس دوسری دلیل سے بھی خلاف واقعہ ٹھہرتا ہے کہ اگر کسی امر میں حواریوں کو مخاطب کرنا اُس امر کو اُنھیں تک محدود کر دینا ہے تو پھر تو اِس صورت میں ساری انجیل ہاتھ سے جاتی ہے کیونکہ تمام اخلاقی تعلیم جو حضرت مسیح نے کی اس کے مخاطب حواری تھے اب آپ کو خوب موقعہ مل سکتا ہے کہ ہمیں کچھ ضرورت نہیں کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دُوسرا بھی پھیردیں کیونکہ یہ تو حواریوں کے حق میں کہا گیا تھا اور آپکا یہ فرمانا کہ رامچندر اور کرشن سے حضرت مسیح کو کیا نسبت ہے اور کیا اگر دس آدمی ایک دعویٰ کریں تو ان میں سے ایک سچا نہیں ہوسکتا مجھے افسوس ہے کہ آپ نے یہ کیا لکھایا میرا تو مطلب صرف اتنا تھاکہ اگر صرف دعوے سے انسان سچا ہوسکتا ہے تو دعوے کرنے والے تو دُنیا میں اور بھی ہیں پس اگر ان میں سے کوئی سچا ہے تو چاہیئے کہ اپنی سچائی کے دلائل پیش کرے ورنہ ہمیں یا آپ کو دس دعویٰ کرنیوالوں میں سے ایک کو بغیر دلیل کے خاص کرلینے کا کوئی حق نہیں پہنچتا یہی تو میں بار بار کہتا ہوں اور لکھتا ہوں کہ حضرت مسیح کی الوہیت پر ابھی تک آپ نے کوئی معقولی دلائل پیش نہیں کئے اور منقولی پیشگوئیاں جو آپ بار بار پیش کر رہے ہیں وہ تو کچھ بھی چیز نہیں ہیں خود امور متنازعہ فیہا ہیں جن کے آپ کچھ معنے کرتے ہیں یونی ٹیرین کچھ کرتے ہیں یہودی کچھ کرتے ہیں اہل اسلام کچھ کرتے ہیں ۔ پھر قطعیۃ الدلالت کیوں کرٹھہر جاویں اور آپ جانتے ہیں دلیل اس کوکہتے ہیں جو قطعیۃ الدلالت اور فی نفسہ روشن اور بدیہی ہو اور کسی امر کی مثبت ہو نہ کہ خود محتاج ثبوت ہو کیونکہ اندھا اندھے کو راہ نہیں دکھا سکتا اور پھر میں اپنی پہلی بات کا اعادہ کرکے لکھتا ہوں کہ آپ جانتے ہیں کہ اس پُر آشوب دُنیا میں انسان ہمیشہ تسلی اور معرفت تامہ کا محتاج ہے اور ہر ایک شخص یہی چاہتا ہے کہ جن دلائل کو تسلیم کرانا چاہتا ہے وہ ایسی شافیہ اور کافیہ دلائل ہوں کہ کوئی جرح ان پر وارد نہ ہو سکے اور خود ایک طالب حق جب اپنی موت کو یاد کرتا ہے اور درحالت بے دین و گمراہ