دوسرے نبیوں کے معجزات سے مشابہ ہوں بلکہ اُن سے کسی قدر کم ہوں بوجہ اُس تالاب کے قِصّہ کے جو ڈاکٹر صاحب کو خوب معلوم ہوگا جس میں غسل کرنیوالے اسی طرح ‘ طرح طرح کی بیماریوں سے اچھے ہو جایا کرتے تھے جیسا حضرت مسیح کی نسبت بیان کیا جاتا ہے اور پھر ایک طرف گھر میں ہی پھُوٹ پڑی ہوئی ہو ایک صاحب حضرات عیسائیوں میں سے تو حضرت مسیح کو خدا ٹھہراتے ہیں۔ اور دُوسرا فرقہ انکی تکذیب کر رہا ہے ادھر یہودی بھی سخت مکذّب ہوں اور عقل بھی اِن نامعقول خیالات کے مخالف ہو اور پھر وہ آخری نبی جس نے صد ہا دلائل اور نشانوں سے ثابت کردیا ہو کہ میں سچا نبی ہوں تو پھر باوجود اسقدر مخالفانہ ثبوتوں کے ایک خاص فرقہ کا خیال اور وہ بھی بے ثبوت کہ ضرور حضرت مسیح خدا ہی تھے کس کام آسکتا ہے اور کس عزّت دینے کے لائق ہے اِسی بنا پر میں نے کہا تھا کہ جس حالت میں اسقدر حملے بالاتفاق آپ کے اس عقیدہ پر ہو رہے ہیں تو اب حضرت مسیح کی خدائی ثابت کرنے کیلئے آپکو کوئی ایسا ثبوت دینا چاہیے جسکے اندر کوئی ظلمت اور تاریکی نہ ہو اور جس میں کوئی اختلاف نہ کر سکتا ہو مگر آپ نے اس طرف توجہ نہ کی اور آپ فرماتے ہیں جو پیشگوئیاں ہم پیش کرتے ہیں وہ دلائل ہیں دعاوی نہیں ۔ ڈاکٹر صاحب آپ انصافاََ سوچیں کہ جس حالت میں اُن پیشگوئیوں کے سر پر اسقدر مکذّب اور مخالف کھڑے ہیں اور خود وہی لوگ ان کے معنے وہ نہیں مانتے جو آپ کرتے ہیں جو وارث عہد عتیق کے تھے اور آپکا خانگی اتفاق بھی نہیں پایا جاتا تو پھر وہ دعاوی ہوئے یا کچھ اور ہوئے یعنی جبکہ وہ آپ کے فرقوں8 میں خود متنازعہ فیہ امر ٹھہر گیا تو اوّل یہودیوں سے فیصلہ کیجئے پھر یونی ٹیرنوں سے فیصلہ کیجئے اور پھر جب سب اتفاق کرلیں کہ آنیوالا مسیح موعود خدا ہی ہے تو پھر مسلمانوں پر حجت کے طور پر پیش کیجئے اور پھر آپ فرماتے ہیں کہ اس زمانہ میں ہمارے لئے نشانوں کی ضرورت نہیں نشان پہلے زمانوں سے خاص ہوتے ہیں جب ایک مدعا ثابت ہوگیا تو پھر نشانوں کی کیا حاجت ۔
میں کہتا ہوں اگر یہ ثابت شدہ امر ہوتا توا تنے جھگڑے ہی کیوں پڑتے کیوں آپ کے فرقہ میں سے ان پیشگوئیوں کے ان معنوں کی تکذیب کرنے کیلئے موجود ہوتے پھر جبکہ ان پیشگوئیوں کی نہ